تذکار مہدی — Page 370
تذکار مهدی ) +370 روایات سید نا محمود محمود ( مصنف ہذا رسالہ) اور میر صاحب کو جگاؤ میری چار پائی آپ کی چارپائی سے تھوڑی ہی دور تھی مجھے جگایا گیا۔اٹھ کر دیکھا تو آپ کو کرب بہت تھا۔ڈاکٹر بھی آگئے تھے۔انہوں نے علاج شروع کیا لیکن آرام نہ ہوا۔آخر انجکشن کے ذریعہ بعض ادویات دی گئیں۔اس کے بعد آپ سو گئے۔جب صبح کا وقت ہوا اٹھے اور اُٹھ کر نماز پڑھی۔گلا بالکل بیٹھ گیا تھا۔کچھ فرمانا چاہا لیکن بول نہ سکے۔اس پر قلم دوات طلب فرمائی لیکن لکھ بھی نہ سکے۔قلم ہاتھ سے چھٹ گئی۔اس کے بعد لیٹ گئے اور تھوڑی دیر تک غنودگی سی طاری ہو گئی اور قریباً ساڑھے دس بجے دن کے آپ کی روح پاک اس شہنشاہ حقیقی کے حضور حاضر ہو گئی جس کے دین کی خدمت میں آپ نے اپنی ساری عمر صرف کر دی تھی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بیماری کے وقت ایک ہی لفظ آپ کی زبان مبارک پر تھا اور وہ لفظ اللہ تھا۔آپ کی وفات کی خبر بجلی کی طرح تمام لاہور میں پھیل گئی۔مختلف مقامات کی جماعتوں کو تاریں دی دے گئیں اور اسی روز شام یا دوسرے دن صبح اخبارات کے ذریعہ کل ہندوستان کو اس عظیم الشان انسان کی وفات کی خبر مل گئی جہاں وہ شرافت جس کے ساتھ آپ اپنے مخالفوں کے ساتھ برتاؤ کرتے تھے ہمیشہ یادر ہے گی وہاں وہ خوشی بھی کبھی نہیں بھلائی جاسکتی جس کا اظہار آپ کی وفات پر آپ کے مخالفوں نے کیا۔لاہور کی پبلک کا ایک گروہ نصف گھنٹہ کے اندر ہی اس مکان کے سامنے اکٹھا ہو گیا جس میں آپ کا جسم مبارک پڑا تھا اور خوشی کے گیت گا گا کر اپنی کور باطنی کا ثبوت دینے لگا۔بعضوں نے تو عجیب عجیب سوانگ بنا کر اپنی خباثت کا ثبوت دیا۔آپ کے ساتھ جو محبت آپ کی جماعت کو تھی اس کا حال اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ بہت تھے جو آپ کی نعش مبارک کو صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے مگر وہ اس بات کے قبول کرنے کو تیار تھے کہ اپنے حواس کو تو مختل مان لیں لیکن یہ باور کرنا انہیں دشوار و نا گوار تھا کہ ان کا حبیب ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا ہے۔پہلے مسیح کے حواریوں کی اپنے مرشد کے ساتھ محبت میں یہ فرق ہے کہ وہ تو مسیح کے صلیب سے زندہ اتر آنے پر حیران تھے اور یہ اپنے مسیح کے وصال پر ششدر تھے۔اُن کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ مسیح زندہ کیونکر ہوا آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک شخص جو خاتم النبین ہو کر آیا تھا اس کی وفات پر نہایت سچے دل سے ایک شاعر نے یہ صداقت سے بھرا ہو ا شعر کہا تھا کہ :