تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 862

تذکار مہدی — Page 369

تذکار مهدی ) 369 روایات سید نا محمودی مجھے اتنے ہی روپیہ کی ضرورت تھی زیادہ کی ضرورت نہیں چنانچہ اس طرح محلہ دارالفضل کی بنیاد پڑی اور وہ روپیہ اشاعت قرآن میں دے دیا گیا۔خطبات محمود جلد سوم صفحہ 682-681 ) حضور علیہ السلام کا وصال آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کو ہمیشہ دستوں کی شکایت رہتی تھی۔لاہور تشریف لانے پر یہ شکایت زیادہ ہو گئی اور چونکہ ملنے والوں کا ایک تانتا رہتا تھا اس لئے طبیعت کو آرام بھی نہ ملا۔آپ اُسی حالت میں تھے کہ الہام ہوا الرَّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ یعنی کوچ کرنے کا وقت آ گیا پھر کوچ کرنے کا وقت آ گیا۔اس الہام پر لوگوں کو تشویش ہوئی لیکن فوراً قادیان سے ایک مخلص دوست کی وفات کی خبر پہنچی اور لوگوں نے یہ الہام اس کے متعلق سمجھا اور تسلی ہوگئی لیکن آپ سے جب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہیں۔یہ سلسلہ کے ایک بہت بڑے شخص کی نسبت ہے وہ شخص اس سے مراد نہیں۔اس الہام سے والدہ صاحبہ نے گھبرا کر ایک دن فرمایا کہ چلو واپس قادیان چلیں۔آپ نے جواب دیا کہ اب واپس جانا ہمارے اختیار میں نہیں۔اب اگر خدا ہی لے جائے گا تو جاسکیں گے۔مگر باوجود ان الہامات اور بیماری کے آپ اپنے کام میں لگے رہے اور اس بیماری ہی میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح و آشتی پیدا کرنے کے لئے آپ نے ایک لیکچر دینے کی تجویز فرمائی اور لیکچر لکھنا شروع کر دیا اور اس کا نام پیغام صلح رکھا۔اس سے آپ کی طبیعت اور بھی کمزور ہو گئی اور دستوں کی بیماری بڑھ گئی۔جس دن یہ لیکچر ختم ہونا تھا اس رات الہام ہوا۔مکن تکیه بر عمر ناپائیدار یعنی نہ رہنے والی عمر پر بھروسہ نہ کرنا۔آپ نے اسی وقت یہ الہام گھر میں سنا دیا اور فرمایا کہ ہمارے متعلق ہے۔دن کو لیکچر ختم ہوا اور چھپنے کے لئے دیدیا گیا۔رات کے وقت آپ کو دست آیا اور سخت ضعف ہو گیا۔والدہ صاحبہ کو جگایا وہ اٹھیں تو آپ کی حالت کمزور تھی انہوں نے گھبرا کر پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے؟ فرمایا وہی جو میں کہا کرتا تھا (یعنی بیماری موت) اس کے بعد پھر ایک اور دست آیا۔اس سے بہت ہی ضعف ہو گیا فرمایا مولوی نورالدین صاحب کو بلواؤ ( مولوی صاحب جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے بہت بڑے طبیب تھے ) پھر فرمایا کہ