تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 862

تذکار مہدی — Page 348

تذکار مهدی ) کارمهدی 348 روایات سید نا محمودی رہتے تھے اور ان کے ساتھ والی جھونپڑی میں ایک اور دوست رہتے تھے۔مولوی صاحب کی طبیعت میں سخت تیزی تھی اور اس دوست کی طبیعت میں بہت نرمی تھی وہ شہر میں بھی مولوی صاحب کے پڑوس میں ہی رہا کرتے تھے مگر وہاں جھونپڑیاں بہت ہی پاس پاس ہو گئیں۔اس دوست کے بچوں کو رونے کی بہت عادت تھی ادھر مولوی صاحب کی طبیعت بہت نازک تھی وہاں بہت زیادہ قریب رہنے کی وجہ سے بچوں کا شور سنتے سنتے مولوی صاحب سخت تنگ آگئے۔ایک دن آپ نے اس دوست کو بلایا اور کہا کہ مجھے آپ پر سخت تعجب آتا ہے اور میں حیران ہوں کہ آپ کس طرح کے آدمی ہیں میں نے گھر پر بھی دیکھا ہے کہ آپ کے ہاں سے شور اور اودھم مچانے کی آوازیں برابر آتی رہتی ہیں مگر وہاں تو کچھ فاصلہ تھا اور اب تو جھونپڑیاں زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے میں بالکل برداشت نہیں کر سکتا اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں باہر آکر ان بچوں کو خوب ماروں اور آپ پر مجھے سخت تعجب ہے کہ آپ پاس رہتے ہیں اور ان کو کچھ نہیں کہتے۔یہ سن کر اس دوست نے کہا کہ مولوی صاحب مجھے بھی آپ پر سخت تعجب ہے کہ وہ میرے پاس شور کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں یہ نادان ہیں بچوں کا کام ہی شور کرنا ہوتا ہے باوجود اس قدر قریب ہونے کے مجھے کوئی غصہ اور جوش نہیں آتا اور میں حیران ہوں کہ آپ کو اس قدر دور بیٹھے ہوئے کیوں اس قدر جوش آتا ہے۔گویا مختلف طبائع نے ایک ہی واقعہ سے الگ الگ اثر قبول کیا۔ایک نے یہ اثر قبول کیا کہ ان بچوں کو سزا دینی چاہئے اور ایک نے یہ کہ بچوں کا یہی کام ہے یہ نادان ہیں اور ان کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنی چاہئے یہ اثر اتنا نمایاں تھا کہ ہر ایک کو دوسرے پر تعجب آتا تھا۔مولوی صاحب اس بات پر حیران تھے کہ وہ دوست اس قدر شور کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں اور وہ ان پر حیران تھے کہ ان کو یہ خیال کیسے پیدا ہوا کہ بچوں کو سزا دینی چاہئے۔پس لوگ عام طور پر خاص خاص جذبات سے خاص خاص اثر قبول کرتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو ایک ہی واقعہ سے مختلف اثر قبول کرتے ہیں اور یہ تفاوت مختلف حالات میں گھٹتا اور بڑھتا جاتا ہے۔مگر باوجود اس کے اس میں شبہ نہیں کہ بعض اخلاق دنیا پر گہرا اثر ڈالتے ہیں اور لوگوں کو خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں اور ایسے اخلاق میں سے بہادری اور وفاداری خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔دنیا کا اکثر حصہ ان دو اخلاق سے نہایت ہی متاثر ہوتا ہے۔خطبات محمود جلد 17 صفحہ 258 ، 259)