تذکار مہدی — Page 347
تذکار مهدی ) 347 روایات سید نا محمود زمانہ نصیب ہوا۔اس کے مقابلہ میں دنیا کے مال اور دوسری چیز میں کیا حقیقت رکھتی ہیں۔آج سے سو سال بعد دنیا کا جو بہت بڑا بادشاہ ہو اُس میں اگر احمدیت کا ایمان ہوگا تو وہ کہے گا آج بادشاہ ہونے کی بجائے اگر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ڈیوڑھی کا دربان ہوتا یا آپ کی بستی میں تنور کی دُکان کرتا تو بہت اچھا ہوتا۔پس یہ دنیا کی چیزیں ہیں کیا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں۔احمدیت کے لئے مال آئیں گے اور ضرور آئیں گے اس بات کا مجھے ڈر نہیں البتہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ ان اموال کو سنبھالنے والے دیانت دار ملیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت ایک لاکھ روپیہ آنا بھی ناممکن سمجھا جاتا تھا مگر اب آٹھ دس لاکھ روپیہ سالانہ آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تو بعض اوقات ایسی حالت ہوتی تھی کہ اُس کا خیال کر کے رقت آجاتی ہے۔زلزلہ کے دنوں میں جب اعلان کیا گیا کہ عذاب آنے والا ہے تو باہر سے مہمان زیادہ آنے لگے اور کثرت سے لوگ باغ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے والدہ کو بلایا اور کہا آج میرے پاس کچھ ہے نہیں کہیں سے کچھ قرض لے لیں۔یہ کہہ کر آپ نماز کیلئے گئے جب واپس آئے تو اندر جا کر دروازہ بند کر لیا اور پھر مسکراتے ہوئے باہر آئے اور والدہ سے فرمایا۔میں نے ابھی کہیں سے قرض لینے کیلئے کہا تھا مگر ایک غریب نے جس کے تن کے کپڑے بھی ثابت نہ تھے یہ پوٹلی مجھے دی ہے۔میں سمجھا اس میں دھیلے پیسے ہوں گے مگر جب اندر جا کر میں نے اسے کھولا تو اس میں سے دوسو سے زیادہ روپیہ نکلا ہے معلوم نہیں کس حالت میں وہ شخص لایا ہے۔( بعض اہم اور ضروری امور 1943ء، انوار العلوم جلد 17 صفحہ 51-52) بعض اخلاق دنیا پر گہرا اثر ڈالتے ہیں زلزلہ کے ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ دنوں کیلئے باغ میں رہائش اختیار کر لی تھی چونکہ الہاموں سے اور زلزلوں کا پتہ چلتا تھا اس لئے آپ کا خیال تھا کہ ایسا نہ ہو وہ قریب میں آنے والے ہوں۔ان ایام کی بات ہے کہ ایک جگہ پر مختلف جھونپڑیاں بنائی گئی تھیں جن میں مختلف دوست رہتے تھے۔ایک جھونپڑی میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم