تذکار مہدی — Page 337
تذکار مهدی ) 337 روایات سید نا محمود ایک قصہ نظر آنے لگا۔لیکن اگر انہوں نے اس انعام کو مستقل بنا لیا تو اللہ تعالی کے فضل سے قیامت تک یہ سلسلہ برکات جاری رہے گا اور ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک یہ سلسلہ اُسی طرح پہنچے گا۔۔قبولیت دعا کا اصل معیار وہ ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیش فرمایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ سو دو سو ایسے مریض لے لئے جائیں۔جو شدید امراض میں مبتلا ہوں یا جنہیں ڈاکٹروں نے لا علاج قرار دے دیا ہو اور پھر قرعہ کے ذریعہ ان کو آپس میں تقسیم کر لیا جائے اور ان کی شفا کے لئے دعا کی جائے پھر جس کی دعا سے زیادہ مریض اچھے ہو جائیں وہ سچا سمجھا جائے۔لیکن یہ کوئی طریق نہیں کہ ایک شخص کو بلایا اور اسے کہہ دیا کہ تم اچھے ہو گئے ہو کیونکہ کئی وہمی طبائع ہوتی ہیں۔وہ صرف اتنی بات سے ہی کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہمیں بڑا فائدہ ہوا۔پس کسی مذہب کی صداقت اور راستبازی معلوم کرنے کا صحیح طریق یہی ہے کہ ڈاکٹروں کے لا علاج قرار دیئے ہوئے مریضوں کو قرعہ اندازی کے ذریعہ آپس میں تقسیم کیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کس کی دعا سے زیادہ مریض شفایاب ہوتے ہیں۔بہر حال اس طریق کو جاری رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تا کہ ہمیشہ اسلام کی زندگی کا ثبوت مہیا ہوتا رہے اور ہمارے نو جوان اس بات پر فخر کر سکیں کہ ہمارے ذریعہ سے پہلے انبیاء کی روحانیت دنیا میں زندہ ہو رہی ہے اور ہم وہ بلب ہیں جس سے بجلی روشن ہوتی ہے۔( الفضل 22 جون 1956ء جلد 45/10 نمبر 145 صفحہ 4 ) آریوں کے جلسہ کے لئے تقریری مقابلہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ لیکچر لکھا۔جو آریوں کی مجلس میں پڑھا گیا اور جس کے نتیجہ میں چشمہ معرفت کتاب لکھی گئی۔اس وقت مولوی عبدالکریم صاحب فوت ہو چکے تھے۔ان جیسی آواز والا جماعت میں کوئی اور شخص موجود نہیں تھا اور یہ سوال در پیش تھا کہ یہ تقریر کون پڑھے۔تجویز یہ ہوئی کہ مقابلہ کر کے دیکھا جائے کہ کون شخص زیادہ موزوں ہے کہ اسے تقریر پڑھنے کے لئے کہا جائے۔مختلف لوگوں نے وہ تقریر پڑھی بڑے بڑے لوگوں میں سے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل، مرزا یعقوب بیگ صاحب، اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تھے۔ان کے علاوہ اور لوگ بھی تھے۔میری عمر اس وقت چھوٹی تھی۔لیکن میں خیال کرتا ہوں (شاید یہ اندازہ اب موجودہ عمر کے لحاظ سے ہو ) کہ اگر میں