تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 862

تذکار مہدی — Page 252

تذکار مهدی ) 252 روایات سید نا محمودی صد الله جاتا تھا۔میں اگر چہ بچہ تھا مگر مجھے خوب یاد ہے جب وہ اس مضمون پر پہنچے تو بڑے جوش سے کہا کرتے تھے کہ کیا چیز ہے جو عیسائی ہمارے مقابلہ میں پیش کر سکتے ہیں۔حضرت محمد رسول اللہ ہی ہے کی تو بڑی بلندشان ہے۔آپ کا ایک نائب اس زمانہ میں احیاء اسلام کے لئے آیا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بڑے اچھے خاندان میں سے ہے، شاہی نسل میں سے ہے ہزاروں سال کی تاریخ اس کے خاندان کی عظمت کو ظاہر کر رہی ہے، اس کے مقابلہ میں میرے کانوں میں پہلے مسیح کی ابھی تک یہ آواز گونج رہی ہے کہ کسی نے چار پائیاں ٹھیک کروانی ہوں تو کر والے، کسی نے ٹوٹی ہوئی کرسیوں کی مرمت کروانی ہو تو کر والے۔انجیل کے اس حوالہ میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں نے کہا کیا یہ مریم کا بیٹا بڑھتی نہیں ؟ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ کیا یہ یوسف نجار کا بیٹا نہیں بلکہ کہا کہ کیا یہ مریم کا بیٹا بڑھئی نہیں؟ جس کے معنے یہ ہیں کہ مسیح نے اپنے طور پر بھی بڑھئی کا کام کیا ہے۔مسیح بے شک انجیل میں اکثر جگہ اپنے آپ کو ابن آدم کہتا ہے لیکن ابن آدم ہونے میں تو تمام بنی نوع انسان اس کے شریک ہیں اس میں مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔لیکن قرآن کریم ایک ایسا نام دیتا ہے جس سے مسیح کی آسانی کے ساتھ شناخت ہو سکتی ہے۔اگر قرآن کریم عیسی ابن آدم کہتا تب بھی مشکل پیش آتی کیونکہ ہزاروں لوگوں کے نام عیسی ہیں اور وہ بھی ابن آدم ہی ہیں۔اگر خالی ابن آدم کہا جاتا تو اس لحاظ سے اور بھی دقت پیش آتی کیونکہ سارے انسان ابن آدم ہیں پھر وہ پہنچانا کس طرح جاتا۔( تفسیر کبیر جلد پنجم صفحه 240 ) تائید الهی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ آتھم کے مباحثہ میں ہم نے جو نظارہ دیکھا اس سے پہلے تو ہماری عقلیں دنگ ہو گئیں اور پھر ہمارے ایمان آسمان پر پہنچ گئے فرماتے تھے کہ جب عیسائی مباحثہ سے تنگ آگئے اور انہوں نے دیکھا کہ ہمارا کوئی داؤ نہیں چلا تو چند مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر انہوں نے ہنسی اڑانے کے لئے یہ شرارت کی کہ کچھ اندھے، کچھ بہرے ، کچھ لولے اور کچھ لنگڑے بُلا لئے اور انہیں مباحثہ سے پہلے ایک طرف چھپا کر بٹھا لیا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو جھٹ انہوں نے اُن اندھوں، بہروں