تذکار مہدی — Page 251
تذکار مهدی ) کارمهدی 251 روایات سید نا محمودی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہی ہم نے تم کو کہا تھا کہ تمہارا طریق اچھا نہیں مگر تم نے ہماری بات کو نہ سمجھا۔آخر جب خود تم پر زد پڑنے لگی تو تمہیں ہوش آ گیا اور تم کہنے لگ گئے کہ یہ طریق درست نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بعض دفعہ اس کے متعلق ایک لطیفہ بھی بیان فرمایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بعض دفعہ حقیقت معلوم کرنے اور دوسرے کا جائزہ لینے کیلئے انسان کو ایسا طریق بھی اختیار کرنا پڑتا ہے جو عام طریق کے مخالف ہوتا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے کہ کوئی سکھ صاحب تھے ان کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں ڈاڑھی بھی ان کی بڑی لمبی تھی اور چہرے پر قدرتی طور پر بال بھی بہت زیادہ تھے۔سکھوں میں چونکہ مذہباً بال کٹوانے منع ہیں اس لئے ان کے بال بے تحاشہ بڑھے ہوئے تھے وہ ایک دن اپنے چبوترہ پر بیٹھے تھے اور بالوں کی کثرت کی وجہ سے حال یہ تھا کہ ان کے ہونٹ بالکل چھپے ہوئے تھے۔مسلمان چونکہ مونچھیں کتر واتے رہتے ہیں اس لئے ان کے ہونٹ صاف طور پر دکھائی دیتے ہیں مگر ان سکھ صاحب کے بال چونکہ قدرتاً بہت بڑے تھے اور پھر انہوں نے مذہبی لحاظ سے ان بالوں کو کبھی تر شوایا بھی نہیں تھا اس لئے مونچھوں اور چہرے اور داڑھی کے بالوں سے ان کے ہونٹ بالکل چھپ گئے تھے۔اتفاقاً ان کے پاس سے کوئی مسلمان گذرا اور وہ کھڑا ہوکر حیرت سے ان کا منہ دیکھنے لگ گیا۔مزید اتفاق یہ ہوا کہ اس وقت وہ سکھ صاحب کسی فکر میں خاموش بیٹھے تھے۔اب یہ دیکھ دیکھ کر حیران تھا کہ یہ کیا تماشہ بنا ہوا ہے مگر اسے کچھ سمجھ نہ آئی۔آخر قریب آ کر اس نے ان سکھ صاحب کے ہونٹوں کے قریب ہاتھ مارا۔یہ دیکھنے کیلئے کہ ان کے ہونٹ بھی ہیں یا نہیں۔اب ایک بھلا مانس بیٹھا ہوا ہو اور کوئی گزرنے والا اس کے منہ پر ہاتھ مارنا شروع کر دے تو اسے لازماً غصہ آئے گا سردار صاحب نے بھی آنکھیں کھول کرات سخت سست کہنا شروع کر دیا اور کہا نا معقول یہ کیا حرکت کرتا ہے۔وہ کہنے لگا۔سردار جی ! معاف کرواتنا ہی دیکھنا تھا کہ آپ بولتے کس طرح ہیں۔(روز نامہ الفضل 8 دسمبر 1938 ء جلد 26 نمبر 282 صفحہ 7 حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا طرز استدلال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نمازیں پڑھایا کرتے تھے ان کا لہجہ بڑا عمدہ تھا آواز بڑی بلند تھی اور ان کی تقریر میں بڑا جوش پایا