تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 862

تذکار مہدی — Page 250

تذکار مهدی ) 250 روایات سید نا محمود سارے معبود مل کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اور ہمارے مفسر فرماتے ہیں کہ اکیلے مسیح نے بہت سے پرندے پیدا کئے تھے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک دفعہ ایک مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام پرندے پیدا کیا کرتے تھے۔تو جو پرندے ہمیں دنیا میں نظر آتے ہیں اُن میں سے کچھ خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوں گے اور کچھ مسیح علیہ السلام کے۔کیا آپ ان دونوں میں کوئی امتیازی بات بتا سکتے ہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ کون سے خدا کے پیدا کردہ ہیں اور کون سے مسیح علیہ السلام کے۔اس پر وہ مولوی صاحب پنجابی میں بولے۔اے تے ہن مشکل ہے۔اوہ دونوں رل مل گئے نے۔یعنی یہ کام تو اب مشکل ہے۔خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ پرندے اور مسیح علیہ السلام کے پیدا کردہ پرندے آپس میں مل جل گئے ہیں اور اب ان دونوں میں امتیاز مشکل ہے۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه 96) عیسائیوں کے خلاف سخت زبان کا استعمال بعض دفعہ جب بات حد سے بڑھ جاتی ہے تو پھر کسی حد تک ان باتوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔عیسائی ہمیشہ رسول کریم ﷺ پر حملے کیا کرتے تھے اور مسلمان چونکہ ان کے حملوں کا جواب نہیں دیا کرتے تھے اس لئے وہ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام کے بانی میں عیب ہی عیب ہیں اگر کسی میں عیب نہیں تو وہ یسوع کی ذات ہے۔وہ مسلمانوں کی شرافت کے غلط معنے لیتے تھے۔وہ مجھتے تھے چونکہ ہم گند اچھالتے ہیں اور یہ نہیں اُچھالتے اس لئے معلوم ہوا کہ واقعہ میں ان کے سردار میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں۔دنوں کے بعد دن گزرے، ہفتوں کے بعد ہفتے ، سالوں کے بعد سال اور صدیوں کے بعد صدیاں، سات آٹھ سو سال تک عیسائی متواتر گند اچھالتے رہے اور مسلمان انہیں معاف کرتے رہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی کہ اب ذرا تم بھی ہاتھ دکھاؤ اور انہیں بتاؤ کہ ہمیں تم میں کوئی عیب نظر آتا ہے یانہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے یسوع کو مخاطب کرتے ہوئے وہ باتیں لکھنی شروع کیں جو یہودی آپ کے متعلق کہا کرتے تھے یا خود مسیحیوں کی کتابوں میں لکھی تھیں۔ابھی اس قسم کی دو چار کتابیں ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھی تھیں کہ ساری عیسائی دنیا میں شور مچ گیا کہ یہ طریق اچھا نہیں۔