تذکار مہدی — Page 206
تذکار مهدی ) 206 روایات سید نا محمود کو گورداسپور کے ایک ہندو مجسٹریٹ آتما رام نے سزا دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی اولاد کی موت کی خبر آپ کو دی۔چنانچہ ہمیں دن میں دولڑ کے اس کے مر گئے۔ایک لڑکا جو لاہور کے گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا ڈوب کر مر گیا۔بیس بائیس سال ہوئے میں گاڑی میں جارہا تھا کہ لدھیانہ کے ٹیشن پر وہ مجھے ملا اور کہا کہ لوگوں نے یونہی مرزا صاحب کو مجھ سے ناراض کر دیا اور مجھ سے کہا کہ آپ دعا کریں۔اس کے دونو جوان لڑکے مر گئے اور اس کی بیوی ہمیشہ اُسے یہی کہتی کہ یہ لڑکے تو نے ہی مارے ہیں۔تو یہ تو ہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ چلاتا ہے دوسری توپ تو ساٹھ ستر میل تک ہی مار کرتی ہے اور اس کے گولے خطا بھی جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی توپ کا گولہ بہت دور تک مار کرتا ہے اور کبھی خطا نہیں جاتا۔دیکھو! اللہ تعالیٰ کی توپ کا گولہ گورداسپور سے لاہور پہنچا جو قریباً اسی میل کا فاصلہ ہے اور وہاں بھی اس نے گورنمنٹ کالج کی عمارت کو چنا اور اس میں جا کر عین اسی لڑکے پر گرا جس پر وہ پھینکا گیا تھا اور اسے ہلاک کر دیا۔تو دعا کی توپ کا گولہ بھی خطا نہیں جاتا اور اگر اس کے باوجود ہم ستی کریں تو یہ بہت افسوس کی بات ہوگی۔دعا کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ جب انسان دعا کرتا ہے تو اُس کے دل میں یقین بڑھتا ہے یہ ایک طبعی فائدہ ہے جو دعا سے حاصل ہوتا ہے۔جب ایک انسان کہتا ہے کہ خدایا! میری مدد کر تو اُس کے دل میں ایک یقین پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ میری مدد کر سکتا ہے اور اس طرح تو کل بڑھتا ہے اور وہ ایسے ایسے کام کر سکتا ہے جو دوسرا کوئی نہیں کر سکتا اور یہ طبعی فائدہ دعا کا ہوتا ہے۔( بعض اہم اور ضروری امور، انوارالعلوم جلد 16 صفحہ 279-278) مقدمہ کرم دین (ازالہ حیثیت عرفی ) 1902ء کے آخر میں حضرت مسیح موعوڈ پر ایک شخص کرم دین نے ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ کیا اور جہلم کے مقام پر عدالت میں حاضر ہونے کے لئے آپ کے نام سمن جاری ہوا چنانچہ آپ جنوری 1903ء میں وہاں تشریف لے گئے۔یہ سفر آپ کی کامیابی کے شروع ہونے کا پہلا نشان تھا کہ گو آپ ایک فوجداری مقدمہ کی جواب دہی کے لئے جا رہے تھے لیکن پھر بھی لوگوں کا یہ حال تھا کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکتا۔جس وقت آپ جہلم کے سٹیشن پر اترے ہیں