تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 862

تذکار مہدی — Page 189

تذکار مهدی ) 189 روایات سید نا محمود حضرت خلیفتہ المسیح اول کے بعض شاگر د بھی وہاں رہا کرتے تھے اور چونکہ ان دنوں بہت کم لوگ ہوا کرتے تھے اس لئے عام طور پر جو لوگ وہاں آتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح اول کے شاگرد بن جاتے تھے یہی مدرسہ تھا اور حضرت خلیفہ اول ہی پڑھایا کرتے تھے۔اس کے علاوہ اور کوئی مدرسہ نہیں تھا۔وہ لوگ آپ کے شاگر د بھی ہوتے تھے اور سلسلہ کے خادم بھی ہوتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں چھوٹا سا تھا کہ جب آٹھم کی پیشگوئی کا وقت پورا ہوا۔غالبا یہ 1894ء کے آخریا 1895ء کے شروع کی بات ہے۔میں اس وقت ساڑھے پانچ یا چھ سال کا تھا۔ابھی تک وہ نظارہ مجھے یاد ہے۔اس وقت تو میں اسے نہیں سمجھتا تھا کیونکہ میری عمر بہت چھوٹی تھی۔لیکن اب واقعات سے میں سمجھتا ہوں کہ جس دن آتھم کی پیشگوئی کے پوری ہونے کا آخری دن تھا۔یعنی پندرہ مہینے ختم ہونے تھے۔اس دن اتنا کہرام مچا ہوا تھا کہ لوگ رو رو کر چیخیں مار رہے تھے اور دعا کرتے تھے کہ خدایا! آتھم مر جائے۔یہ عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے کی بات ہے۔پھر نماز کا وقت ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز پڑھائی اور نماز کے بعد آپ مجلس میں بیٹھ گئے گو اس عمر میں میں باقاعدہ مجلس میں حاضر نہیں ہوتا تھا۔لیکن کبھی کبھی مجلس میں بیٹھ جاتا تھا۔اس دن میں بھی مجلس میں بیٹھ گیا۔اس دن جو لوگ رو رو کر دعائیں کرتے رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے فعل پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کیا خدا تعالیٰ سے بھی بڑھ کر کسی انسان کو اس کے کلام کے لئے غیرت ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جب یہ بات کہی ہے کہ ایسا ہوگا تو پھر ہمیں ایمان رکھنا چاہئے کہ ایسا ضرور ہوگا اور اگر ہم نے خدا تعالیٰ کی بات کو غلط سمجھا ہے تو خدا تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں ہوسکتا کہ وہ ہماری غلطی کے مطابق فیصلہ کرے۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ جب ہم نے ایک شخص کو راستباز مان لیا ہے تو اس کی باتوں پر یقین رکھیں۔غرض مومن کا کام یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر توکل کرے۔خدا تعالی کی بات بہر حال پوری ہو کر رہتی ہے۔جنگ مقدس خطبات محمود جلد 30 صفحه 110-109 ) ہماری کامیابی کی جڑ اور راز یہی مسلمانوں کی حالت ہے جو ہمارے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ یہی سب سے زیادہ ہماری ترقی میں محمد اور معاون ہے اور ان کو جانے