تذکار مہدی — Page 177
تذکار مهدی ) 177 روایات سید نا محمود پر آ گیا میں اسٹیشن سے باہر نکل کر برآمدہ میں کھڑا تھا تو میں نے دیکھا کہ سر ڈگلس سڑک پر ٹہل رہے ہیں وہ کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی ادھر۔ان کا چہرہ پریشان ہے میں ان کے پاس گیا اور کہا صاحب آپ باہر پھر رہے ہیں میں نے ویٹنگ روم میں کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں آپ وہاں تشریف رکھیں۔وہ کہنے لگے منشی صاحب آپ مجھے کچھ نہ کہیں میری طبیعت خراب ہے میں نے کہا کچھ بتا ئیں تو سہی آخر آپ کی طبیعت کیوں خراب ہو گئی ہے تاکہ اس کا مناسب علاج کیا جا سکے۔اس پر وہ کہنے لگے جب سے میں نے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ کر کے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گنہ گار نہیں ان کا کوئی قصور نہیں۔پھر میں نے عدالت کو ختم کر دیا اور یہاں آیا تو اب ٹہلتا ٹہلتا جب اس کنارے کی طرف نکل جاتا ہوں تو وہاں مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتے ہیں میں نے یہ کام نہیں کیا یہ سب جھوٹ ہے پھر میں دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں بھی مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ سب جھوٹ ہے میں نے یہ کام نہیں کیا۔اگر میری یہی حالت رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا صاحب آپ چل کر ویٹنگ روم میں بیٹھئے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی آئے ہوئے ہیں وہ بھی انگریز ہیں ان کو بلا لیتے ہیں شاید ان کی باتیں سن کر آپ تسلی پا جائیں۔سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کا نام لیمار چنڈ تھا۔سر ڈگلس نے کہا انہیں بلوالو۔چنانچہ میں انہیں بلالا یا۔جب وہ آئے تو سر ڈگلس نے ان سے کہا دیکھو یہ حالات ہیں میری جنون کی سی حالت ہو رہی ہے میں اسٹیشن پر ٹہلتا ہوں اور گھبرا کر اس طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کی شکل مجھے کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں مجھ پر جھوٹا مقدمہ کیا گیا ہے پھر دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں یہ سب کچھ جھوٹ ہے جو کیا جا رہا ہے میری یہ حالت پاگلوں کی سی ہے اگر تم اس سلسلہ میں کچھ کر سکتے ہو تو کرو ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔لیمار چنڈ نے کہا اس میں کسی اور کا قصور نہیں آپ کا اپنا قصور ہے آپ نے گواہ کو پادریوں کے حوالہ کیا ہوا ہے۔وہ لوگ جو کچھ اسے سکھاتے ہیں وہ عدالت میں آکر بیان کر دیتا ہے آپ اسے پولیس کے حوالہ کریں اور پھر دیکھیں کہ وہ کیا بیان دیتا ہے چنانچہ اسی وقت سر ڈگلس نے کاغذ قلم منگوایا اور حکم دے دیا کہ عبدالحمید کو پولیس کے حوالہ کیا جائے اور حکم کے مطابق عبد الحمید کو پادریوں سے لے لیا گیا اور پولیس کے حوالہ کر دیا گیا دوسرے دن یا اسی دن اس نے