تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 862

تذکار مہدی — Page 150

تذکار مهدی ) 150 روایات سید نا محمود رہا، ماریں پڑتی رہیں قتل ہوتے رہے مگر باوجود ان تمام تکالیف کے اور باوجود اس کے کہ آپ کا مقابلہ ایک ایسی دنیا سے تھا۔جس کا مقابلہ کرنے کی ظاہری سامانوں کے لحاظ سے آپ میں قطعاً طاقت نہ تھی۔پھر بھی آپ نے اپنے مقابلہ کو جاری رکھا بلکہ مجھے خوب یاد ہے میں نے متعدد بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے سنا کہ نبی کی مثال تو ویسی ہی ہوتی ہے جیسے لوگ کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں ایک پاگل عورت رہتی تھی۔جب بھی وہ باہر نکلتی چھوٹے چھوٹے لڑکے اکٹھے ہو کر اسے چھیڑ نے لگ جاتے اس کے ساتھ مذاق کرتے اسے دق کرتے اور اسے بار بار تنگ کرتے۔وہ بھی مقابلہ میں ان لڑکوں کو گالیاں دیتی اور بد دعائیں دیتی آخر ایک دن گاؤں والوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ عورت مظلوم ہے اور ہمارے لڑکے اسے ناحق تنگ کرتے رہتے ہیں۔مظلومیت کی حالت میں یہ انہیں بددعائیں دیتی ہے کہیں ایسا نہ ہو اس کی بددعا ئیں کوئی رنگ لائیں ہمیں چاہیئے کہ اپنے لڑکوں کو روک لیں تا کہ نہ وہ اسے تنگ کریں۔اور نہ یہ بددعا ئیں دے چنانچہ اس مشورہ کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ کل سے سب گاؤں والے اپنے لڑکوں کو گھروں میں بند رکھیں اور انہیں باہر نہ نکلنے دیں۔چنانچہ دوسرے دن سب لوگوں نے اپنے اپنے لڑکوں سے کہہ دیا کہ آج سے باہر نہیں نکلنا اور مزید احتیاط کے طور پر انہوں نے باہر کے دروازوں کی زنجیریں لگا دیں۔جب دن چڑھا اور وہ پاگل عورت حسب معمول اپنے گھر سے نکلی تو کچھ عرصہ تک اور ادھر اُدھر گلیوں میں پھرتی رہی۔کبھی ایک گلی میں جاتی اور کبھی دوسری میں مگر اسے کوئی لڑکا نظر نہ آتا۔پہلے تو یہ حالت ہوا کرتی تھی کہ کوئی لڑکا اس کے دامن کو گھسیٹ رہا ہے کوئی اسے چٹکی کاٹ رہا ہے کوئی اسے دھکا دے رہا ہے۔کوئی اسکے ہاتھوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور کوئی اسے مذاق کر رہا ہے مگر آج اسے کوئی لڑکا دکھائی نہ دیا۔دو پہر تک تو اس نے انتظار کیا۔مگر جب دیکھا کہ اب تک بھی کوئی لڑکا اپنے گھر سے نہیں نکلا۔تو وہ دوکانوں پر گئی۔اور ہر دوکان پر جا کر کہتی آج تمہارا گھر گر گیا ہے بچے مر گئے ہیں آخر ہوا کیا ہے کہ وہ نظر نہیں آتے تھوڑی دیر کے بعد جب اس طرح اس نے ہر دوکان پر جا کر کہنا شروع کیا۔تو لوگوں نے کہا گالیاں تو اس طرح بھی ملتی ہیں اور اُس طرح بھی چھوڑو بچوں کو ان کو قید کیوں کر رکھا ہے آپ یہ حکایت بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام کا حال بھی اپنے رنگ میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے دنیا ان کو چھیڑتی ہے تنگ کرتی ہے ان پر ظلم و ستم ڈھاتی اور اس قدر ظلم کرتی ہے کہ ان کے لئے زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایک طبقہ کے دل میں یہ