تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 862

تذکار مہدی — Page 115

تذکار مهدی ) 115 روایات سید نامحمود سمجھانے کے بعد میں آپ کا لفظ استعمال کرنے لگا اور ان کی اس نصیحت کا اثر اب تک میرے دل میں موجود ہے۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے لاہور آنے پر یہاں بعض لڑکوں کو نکٹائی لگاتے دیکھا اور میں نے بھی شوق سے ایک نکٹائی خرید لی اور پہنی شروع کر دی۔گورداسپور ہی کا واقعہ ہے کہ وہی مرحوم دوست مجھے پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے ”آج آپ نے نکٹائی پہنی ہے تو ہم کل کنچنیوں کا تماشہ دیکھنے لگ جائیں گے کیونکہ ہم نے تو آپ سے سبق سیکھنا ہے جو قدم آپ اٹھائیں گے ہم بھی آپ کے پیچھے چلیں گے یہ کہ کر انہوں نے مجھ سے نکٹائی مانگی اور میں نے اتار کر ان کو دے دی۔پس ان کی یہ دو نصیحتیں مجھے کبھی نہیں بھول سکتیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک مخلص متبع کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔اگر ہمارے خاندان کا کوئی نوجوان اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا تو صاحبزادہ صاحب! صاحبزادہ صاحب کہہ کر اس کا دماغ بگاڑ نا نہیں چاہئے بلکہ اس کو کہنا چاہیئے کہ آپ ہوتے تو صاحبزادہ ہی تھے مگر اب غلام زادہ سے بھی بدتر معلوم ہو رہے ہیں اس لئے آپ کو چاہیئے کہ اپنی (سوانح فضل عمر جلد اول صفحه 90 تا 92) اصلاح کریں۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی رائے چالیس آدمیوں کے برابر ایک دن حضرت صاحب اندر آئے تو والدہ صاحبہ سے کہا کہ انہیں (یعنی مجھے ) انجمن کا ممبر بنا دیا ہے نیز ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کو اور مولوی صاحب کو تا کہ اور لوگ کوئی نقصان نہ پہنچاویں۔آپ کو کہا گیا چودہ نام لکھ لیئے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا اور چاہئیں، باہر کے آدمی بھی ہوں۔۔۔۔اس پر کہا گیا کہ زیادہ آدمیوں سے کورم نہیں پورا ہوگا۔آپ نے فرمایا اچھا تھوڑے سہی۔پھر کہا اچھا ایک اور تجویز کرتا ہوں اور وہ یہ کہ مولوی صاحب کی رائے چالیس آدمیوں کی رائے کے برابر ہو۔اس وقت میرے سامنے ان لوگوں نے حضرت صاحب کو دھوکا دیا کہ حضرت! ہم نے مولوی صاحب کو پریذیڈنٹ بنا دیا ہے اور پریذیڈنٹ کی رائیں پہلے ہی زیادہ ہوتی ہیں۔حضرت صاحب نے کہا ہاں یہی میرا منشاء ہے کہ ان کی رائیں زیادہ ہوں۔مجھے اس وقت انجمنوں کا علم نہ تھا کہ کیا ہوتی ہیں ورنہ بول پڑتا کہ پریذیڈنٹ کی ایک ہی زائد