تذکار مہدی — Page 106
تذکار مهدی ) 106 روایات سید نا محمود تھوڑی دیر کے لئے آپ بغیر اطلاع دیئے اس باغ کے دوسرے کو نے کی طرف چلے گئے ، صحابہ نے جب رسول کریم ﷺ کو نہ دیکھا تو وہ چاروں طرف دوڑ پڑے۔وہ مشہور حدیث جس میں آپ نے حضرت ابو ہریرہ سے کہا تھا کہ جس نے لَا اِله إِلَّا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا اسی وقت کی حدیث ہے اس شخص کے نزدیک وہ سارے صحابہ جو اس وقت رسول کریمی کی تلاش میں دوڑے بے اصولے تھے اور ان کا دوڑنا ان کے وقار کے خلاف تھا بھلا مؤمن بھی کبھی ہل سکتا ہے۔اسی طرح جنگ کے موقع پر رسول کریم ﷺ کے اردگرد ہمیشہ ایک گارد ہوتی۔صحابہ کہتے ہیں کہ جو ہم میں سب سے زیادہ بہادر ہوتا وہ آپ کے گر دکھڑا کیا جاتا۔گویا چن چن کر نہایت مضبوط اور توانا آدمی رسول کریم ﷺ کی حفاظت کے لئے مقرر کیئے جاتے۔(خطبات محمود جلد 16 صفحہ 67،66) نماز با جماعت اور بچوں کی نگرانی میرے نزدیک ان ماں باپ سے بڑھ کر اولا دکا کوئی دشمن نہیں جو بچوں کو نماز باجماعت ادا کرنے کی عادت نہیں ڈالتے۔مجھے اپنا ایک واقعہ یاد ہے۔ایک دفعہ حضرت صاحب کچھ بیمار تھے اس لیئے جمعہ کے لئے مسجد میں نہ جا سکے۔میں اس وقت بالغ نہیں تھا کہ بلوغت والے احکام مجھ پر جاری ہوں۔تا ہم میں جمعہ پڑھنے کے لیئے مسجد کو آ رہا تھا کہ ایک شخص مجھے ملا اس وقت کی عمر کے لحاظ سے تو شکل اس وقت تک یاد نہیں رہ سکتی مگر اس واقعہ کا اثر مجھ پر ایسا ہوا کہ اب تک مجھے اس شخص کی صورت یاد ہے۔محمد بخش ان کا نام ہے وہ اب قادیان میں ہی رہتے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا آپ واپس آ رہے ہیں کیا نماز ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا آدمی بہت ہیں مسجد میں جگہ نہیں تھی میں واپس آ گیا۔میں بھی یہ جواب سن کر واپس آ گیا اور گھر میں آ کر نماز پڑھ لی۔حضرت صاحب نے یہ دیکھ کر مجھ سے پوچھا مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں گئے ، خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں بچپن سے ہی حضرت صاحب کا ادب ان کے نبی ہونے کی حیثیت سے کرتا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ کے پوچھنے میں ایک سختی تھی اور آپ کے چہرہ سے غصہ ظاہر ہوتا تھا۔آپ کے اس رنگ میں پوچھنے کا مجھ پر بہت ہی اثر ہو ا۔جواب میں میں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن جگہ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آ گیا۔آپ یہ سن کر خاموش