تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 862

تذکار مہدی — Page 105

تذکار مهدی ) 105 → روایات سید نامحمود بھاگتے چلے جاتے۔یہ شخص تو اگر اس وقت ہوتا اور اسے یکے کے ساتھ چلنے کو کہا جاتا تو شائد خود کشی کو ترجیح دیتا کہ اس قدر تک کی گئی ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کبھی گھر میں ہدیۂ آئی ہوئی چیز بغیر دریافت کئے استعمال نہ کرتے بلکہ آپ پوچھ لیتے کہ یہ کہاں سے آئی ہے، کون دینے آیا تھا اور آیا وہ شخص جانا پہچانا ہے یا نہیں۔جب مخالفت زیادہ بڑھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کی دھمکیوں کے خطوط موصول ہو نے شروع ہوئے تو کچھ عرصہ تک آپ نے سنکھیا کے مرکبات استعمال کیئے تا کہ اگر خدانخواستہ آپکو زہر دیا جائے تو جسم میں اس کے مقابلہ کی طاقت ہو ، اس شخص کے نزدیک یہ بھی خدا تعالیٰ کے توکل کے خلاف ہو گا۔پھر اپنے بچوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مغرب کے بعد کبھی باہر نہیں نکلنے دیتے تھے کیونکہ آ سمجھتے تھے لوگ دشمن ہیں ممکن ہے وہ بچوں پر حملہ کر دیں اور انہیں نقصان پہنچا ئیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام جب فوت ہوئے تو اس وقت میری 19 سال عمر تھی۔16، 17 سال کی عمر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے کبھی بھی مغرب کے بعد گھر سے نکلنے نہیں دیا اور اس کے بعد بھی آپ کی وفات تک میں اجازت لے کر مغرب کے بعد گھر سے جاتا۔اس کے متعلق بھی وہ کہنے والا کہ سکتا ہے کہ یہ بالکل تو کل صلى الله اور اصول کے خلاف امر ہے۔پھر اس سے اوپر جا کر دیکھو تو کل کے سر چشمہ رسول کریم ہے کے زمانہ میں بھی یہی حال تھا۔حدیثوں سے صاف ثابت ہے کہ روزانہ صحابہ میں سے چند لوگ آتے اور رسول کریم ﷺ کی حفاظت کے لیئے پہرہ دیتے۔پہلے تو وہ بغیر اسلحہ کے پہرہ دیا کرتے مگر ایک دن رسول کریم نے ہتھیاروں کی جھنکار کی آواز سنی تو آپ باہر تشریف لائے دیکھا تو صحابہ اسلحہ سے مسلح ہو کر پہرہ دینے آئے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا پتہ کوئی ایسا دشمن آ جائے جو باہتھیار ہو اس لئے ہم مسلح ہو کر آئے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے جب یہ سنا تو ان کی تعریف کی اور ان کے لئے دعا فرمائی۔اس آدمی کے لئے یہ بات بھی بڑی مصیبت ہو گی۔پھر صحابہ کی حالت یہ تھی کہ رسول کریم ﷺ اگر ذرا بھی ادھر ادھر ہو جاتے تو وہ بے تحاشہ آپ کی تلاش میں دوڑ پڑتے۔بخاری میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ ایک باغ میں بیٹھے تھے، صلى الله صلى الله