تذکار مہدی — Page 96
تذکار مهدی ) 96 روایات سید نا محمود ذلیل ترین انسان خیال کرتا تھا۔میں کہتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور مجھے یہ ذلت کی حالت نہ دیکھنی پڑے۔اب دیکھو یہ کتنی چھوٹی سی چیز تھی۔کشتی صرف 27 روپے کی تھی اور وہ بھی چند آدمیوں کے چندہ سے خریدی ہوئی اور وہ بھی پرانی۔پھر وہ سیکنڈ ہینڈ کشتی تھرڈ ہینڈ بنی پھر فورتھ ہینڈ بنی اور پھر فتھ ہینڈ بنی لیکن اس پر بھی میں جوش میں آ کر اُسے مارنے لگا مگر اُس نے اپنا ہاتھ نیچے کر لیا۔اس کا نیچے ہاتھ گرانا کسی جذبہ شرافت کے ماتحت نہیں تھا صرف اس لیئے تھا کہ وہ جانتا تھا کہ بڑے آدمی کے بیٹے ہیں اگر مارا تو ان کے ساتھی مجھے ماریں گے۔پھر یہ بھی نہیں تھا کہ مظلوم ہونے کے باوجود اُس نے مجھ پر رحم کیا ہو بلکہ ظالم وہ تھا اور کمزور وہ تھا مگر باوجود اس کے کہ وہ ظالم تھا اور کمزور تھا اُس کا یہ فعل میرے لئے اتنا تکلیف دہ ہوا کہ آج تک اس واقعہ کو یاد کر کے میں شرمندہ ہو جاتا ہوں۔نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہے انوار العلوم جلد 18 صفحہ 249 تا 251) میری بیماری کا فکر شفقت پدری کا ایک واقعہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر اس سفر میں کہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے۔ایک دفعہ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب کسی ہندو پنشنر سیشن جج کی آمد کی خبر دینے آئے۔جو بغرض ملاقات آئے تھے۔آپ نے اس وقت ان سے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں۔مگر محمود بھی بیمار ہے مجھے اس کی بیماری کا زیادہ فکر ہے آپ اس کا توجہ سے علاج کریں۔تو والدین کو اپنی اولاد کا بڑا فکر ہوتا ہے۔مگر تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اپنی اولا دکو احمدی بنانے کا فکر نہیں کرتے۔اپنی اولاد کو دین نہیں سکھاتے۔نماز کا وقت ہوگا تو سردی یا کسی اور وجہ سے کہیں گے بچہ نے نماز نہیں پڑھی تو کیا ہوا ہے حالانکہ بچوں کی تربیت کا زمانہ ان کا بچپن کا ہی زمانہ ہوتا ہے اور بچپن کی تربیت ہی آئندہ زندگی میں کام آ سکتی ہے۔شملہ کا سفر ملائکہ اللہ۔انوار العلوم جلد 5 صفحہ 456 ، 457 ) | میں چھوٹا تھا کہ بخار سے بیمار ہوا اور ڈاکٹر نے کہا شملہ بھیج دیا جائے۔حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام نے مجھے شملہ بھیج دیا۔میں وہاں پہنچا تو مولوی صاحب وہاں تھے۔میرا ذکر