تذکار مہدی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 862

تذکار مہدی — Page 92

تذکار مهدی ) 92 روایات سید نا محمود میں پھیلنے لگی تو میں نے ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ وہ آواز ساتھ ہی ساتھ ایک نظارہ کی شکل میں بدلتی چلی گئی۔گویا وہ خالی آواز ہی نہ رہی بلکہ ساتھ ہی ایک نظارہ بھی پیدا ہو گیا۔رفتہ رفتہ آواز بھی غائب ہو گئی اور صرف نظارہ رہ گیا۔پھر میں نے دیکھا کہ وہ نظارہ سمٹ سمٹا کر تصویر کا ایک فریم بن گیا۔اُس فریم کو میں حیران ہو کر دیکھنے لگا کہ عجیب تماشا ہے کہ پہلے آسمان سے ایک آواز پیدا ہوئی ، پھر وہ آواز جو میں پھیلی ، پھیل کر نظارہ بنی اور پھر اس نظارے نے تصویر کے ایک چوکھٹے کی صورت اختیار کر لی۔اس فریم کی درمیانی جگہ خالی ہے گتے تو لگے ہوئے ہیں مگر تصویر کوئی نہیں۔میں اس فریم کو حیرت سے دیکھنے لگا کہ یہ بات کیا ہے کہ اس فریم میں کوئی تصویر نہیں۔مگر ابھی کچھ لمبا وقفہ نہیں گزرا تھا کہ میں نے دیکھا کہ اس فریم کے اندر ایک تصویر نمودار ہوگئی ہے۔اس پر میں زیادہ حیران ہوا اور میں نے غور کرنا شروع کیا کہ یہ کس کی تصویر ہے۔ابھی میں اس پر غور ہی کر رہا تھا کہ تصویر بلنی شروع ہوئی اور پھر تھوڑی دیر کے بعد یک دم اس میں سے ایک وجود گود کر میرے سامنے آ گیا اور اُس نے مجھے کہا کہ میں خدا کا فرشتہ ہوں کیا میں تم کو سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں۔میں نے کہا اگر تم مجھے سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھا دو تو اور کیا چاہیئے۔اُس نے کہا تو پھر سنو۔چنانچہ میں بھی کھڑا ہوں اور وہ بھی۔اُس نے تفسیر بیان کرنا شروع کر دی اور میں اسے سنتا رہا۔جب وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر پہنچا تو کہنے لگا آج تک جس قدر مفسرین نے تفسیریں لکھی ہیں اُن سب نے صرف اس آیت تک تفسیر لکھی ہے۔آگے تفسیر نہیں لکھی۔مجھے خواب میں فرشتہ کی اس بات پر حیرت محسوس ہوتی ہے مگر زیادہ حیرت نہیں۔جاگتے ہوئے تو اگر کوئی شخص ایسی بات کہے تو دوسرا فورا شور مچانے لگ جائے کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔مفسرین نے تو سارے قرآن کی تفسیریں لکھی ہیں مگر خواب میں مجھے فرشتہ کی اس بات پر حیرت نہیں ہوتی اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہوگا۔اس کے بعد اس نے کہا کہ میں تمہیں آگے بھی تفسیر سکھاؤں؟ میں نے کہا ہاں سکھاؤ۔چنانچہ اس نے اِهْدِنَا الصَّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) (البقره 7-6) تک ساری تفسیر سکھا دی اور میری آنکھ کھل گئی۔اُس وقت مجھے فرشتہ کی سکھائی ہوئی باتوں میں سے دو تین باتیں یاد تھیں لیکن چونکہ دو تین بجے کا وقت تھا میں بعد میں پھر سو گیا نتیجہ یہ ہوا کہ جب میں دوبارہ اُٹھا تو مجھے ان باتوں میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی۔صبح اُٹھ کر میں حضرت خلیفہ اول کے پاس پڑھنے کے لیئے گیا، اُس وقت