تذکار مہدی — Page 81
تذکار مهدی ) 81 روایات سید نا محمود بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔میں لکھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک جبہ میں نے مانگ لیا تھا جب میرے دل میں خیالات کی وہ موجیں پیدا ہونی شروع ہوئیں جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے تو ایک دن ضحی کے وقت یا اشراق کے وقت میں نے وضو کیا اور وہ جبہ اس وجہ سے نہیں کہ خوبصورت ہے بلکہ اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے اور متبرک ہے یہ پہلا احساس میرے دل میں خدا تعالیٰ کے فرستادہ کے مقدس ہونے کا تھا۔پہن لیا تب میں نے اس کو ٹھڑی کا جس میں میں رہتا تھا دروازہ بند کر لیا اور ایک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی اور میں اس میں خوب رویا، خوب رویا، خوب رویا اور اقرار کیا کہ اب نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا اس گیارہ سال کی عمر میں مجھ میں کیسا عزم تھا۔اس اقرار کے بعد میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی گو اس نماز کے بعد کئی سال بچپن کے زمانہ کے ابھی باقی تھے۔یا دایام۔انوار العلوم جلد نمبر 8 صفحہ 366-365) گیارہ سال کی عمر میں پختہ ایمان میں گیارہ سال کا تھا جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل سے یہ توفیق عطا فرمائی کہ میں اپنے عقیدہ کو ایمان سے بدل لوں مغرب کے بعد کا وقت تھا۔میں اپنے مکان میں کھڑا تھا کہ یک دم مجھے خیال آیا کیا میں اس لیئے احمدی ہوں کہ بانی سلسلہ احمد یہ میرے باپ ہیں یا اس لئے احمدی ہوں کہ احمدیت سچی ہے اور یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ہے یہ خیال آنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس بات پر غور کر کے یہاں سے نکلوں گا اور اگر مجھے پتہ لگ گیا کہ احمدیت کچی نہیں تو میں اپنے کمرہ میں داخل نہیں ہوں گا بلکہ یہیں صحن سے باہر نکل جاؤں گا۔یہ فیصلہ کر کے میں نے غور کرنا شروع کیا اور قدرتی طور پر اس کے نتیجہ میں بعض دلائل میرے سامنے آئے جن پر میں نے جرح کی۔کبھی ایک دلیل دوں اور اسے توڑوں پھر دوسری دلیل دوں اور اسے رد کروں پھر تیسری دلیل دوں اور اسے توڑوں یہاں تک کہ ہوتے ہوتے یہ سوال میرے سامنے آیا کہ کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے؟ اور کیا میں ان کو اس لئے سچا مانتا ہوں کہ میرے ماں باپ کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ سچے ہیں یا میں ان کو اس لئے سچا مانتا ہوں کہ مجھ پر دلائل و براہین کی رو سے یہ روشن ہو چکا ہے کہ واقعہ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم راستباز