رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 56 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 56

56 صلى الله رسول تھے اس لئے آپ نے نہ صرف خوف کا اظہار نہ کیا بلکہ حضرت ابو بکر کو بتایا کہ دیکھنے کا تو سوال ہی نہیں ہے خدا ہمارے ساتھ ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہم اپنے گھروں سے نکلے ہیں پھر ان کو طاقت ہی کہاں مل سکتی ہے کہ یہ آنکھ نیچی کر کے ہمیں دیکھیں۔یہ وہ تو کل ہے جو ایک جھوٹے انسان میں نہیں ہو سکتا۔جو ایک پر فریب دل میں نہیں ٹھہر سکتا۔رسول کریم ﷺ کا توکل ایک رسولا نہ تو کل تھا“ (انوارالعلوم جلد اوّل صفحہ 495) تین راتیں غار ثور میں گزارنے کے بعد آپ نے پھر سفر کا آغاز کیا۔ایک اونٹنی پر آپ اور ایک راہنما سوار تھے اور دوسری اونٹنی پر حضرت ابو بکر اور آپ کے ایک غلام۔آپ نے ساحلِ سمندر کا راستہ لیا اور سفر تیزی سے طے ہونے لگا۔کفار مکہ نے آپ کو پکڑ کر لانے والے کے لئے جس انعام کثیر کا اعلان کر رکھا تھا اس کی جستجو دلوں میں مچل رہی تھی۔سراقہ بن مالک انعام کے لالچ میں آپ کے تعاقب میں نکلا اور اس نے آپ کو دیکھ لیا۔وہ اس طرح پھرتی سے آپ کی طرف لپکا جس طرح ایک شکاری اپنے شکار کی طرف لپکتا ہے۔بہت بڑی آزمائش اور امتحان کا وقت تھا۔بہادر سے بہادر انسان بھی ایسی حالت میں ہمت ہار دیتا ہے۔لیکن قربان جائیے پیارے محمد مصطفے ﷺ کی استقامت اور جرات پر کہ آپ نے اس انتہائی خطرناک موقعہ پر ذرا برابر بھی پریشانی یافکر کا اظہار نہیں کیا۔آپ برابر قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف رہے اور ایک بار بھی چہرہ مبارک پھیر کر دائیں بائیں یا پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔یہ اس تو کل علی اللہ کا نتیجہ تھا جو آپ کی روح میں بسا ہوا تھا۔آپ کو