رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 49
49 انسان ہوں اور عبدالمطلب کا پوتا ہوں! انتہائی خطرناک حالات میں، جبکہ موت ہر طرف سے سر پر منڈلا رہی تھی آپ کا یہ جرات مندانہ قدام آپ کے تو کل علی اللہ کی ایک درخشندہ مثال ہے۔فتح مکہ کے موقعہ پر آپ کا عفو عام بھی آپ کے تو کل علی اللہ کا ایک حیران کن نظارہ تھا۔عفو عام کے اس بے نظیر نمونہ کے پیچھے تو کل علی اللہ کا جو غیر معمولی جذ بہ نظر آتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔دنیا کے حکمران تو فاتح بننے پر دشمنوں کے سروں کے مینار تعمیر کرتے ہیں اور جب تک ایک ایک دشمن کا سرتن سے جدا نہ کر دیں انہیں چین کی نیند نصیب نہیں ہوتی۔جب تک ایک ایک دشمن سے پورا بدلہ نہ لے لیں ان کے دلوں کو سکون نہیں ملتا۔اور یہاں یہ حالت ہے کہ سرور کائنات ﷺ ایک فاتح کی حیثیت میں دس ہزار قد وسیوں کے ہمراہ مکہ میں داخل ہوتے ہیں تو عجز وانکسار اور شکر گزاری سے آپ کا سر اونٹ کے کجاوہ کے ساتھ لگا ہوا تھا۔یہ سب تو کل علی اللہ کا ایک دلر با اظہار تھا کہ میرے مولیٰ ! یہ سب تیری عطا ہے۔میں اس فتح کے وقت اس ذات کو نہیں بھولا جس پر میرا سب تو کل ہے اور جس کے کرم سے یہ دن دیکھنا نصیب ہوا ہے۔دیکھ میں کس عاجزی سے تیرے در پر جھکا ہو اہوں اور تیری حمد کے ترانے گا رہا ہوں۔آگے بڑھے تو اس فاتح عالم کے سامنے وہ دشمن دست بستہ کھڑے تھے جنہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ پرظلم وستم کرتے ہوئے سفا کی کی آخری حدود کو چھولیا تھا۔یہ موقع تھا کہ ان سے بدلہ لیا جاتا اور ایک ایک کو تختہ دار پر لٹکا دیا جاتا۔ہمارے ہادی کامل ﷺ نے اُس روز اپنے ان دشمنوں سے بدلہ لیا اور خوب بدلہ لیا۔ایسا بدلہ کہ دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ یادر کھا جائے گا۔ہاں ایسا بدلہ جو آپ کی شانِ اقدس سے مطابقت رکھتا تھا۔