رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 48
48 میں تو یہ جلوہ کچھ اس شان سے نظر آتا ہے کہ اس کے قریب کی مثال بھی دوسری جگہ نظر نہیں آتی۔اس طرح کا ایک ایمان افروز واقعہ حنین کے میدان میں رونما ہوا۔اس غزوہ کے دوران ایک ایسا نازک موقع آیا کہ رسول کریم ﷺ صرف چند صحابہ کے درمیان میدان جنگ میں کھڑے تھے۔ہر طرف سے دشمن کا دباؤ تھا۔دائیں اور بائیں اور سامنے تینوں طرف سے تیر پڑ رہے تھے اور بچاؤ کے لئے صرف ایک تنگ راستہ تھا جس میں سے ایک وقت میں صرف چند آدمی گزر سکتے تھے۔اس خطرناک راستہ سے گزرے بغیر بچاؤ کی کوئی راہ نظر نہیں آتی تھی۔یہ مرحلہ اتنا نازک تھا کہ حضرت ابو بکڑ نے آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے خیال سے نہایت لجاجت سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ تھوڑی دیر کے لیئے پیچھے ہٹ جائیں تا کہ اسلامی صلى الله لشکر کو پھر سے جمع ہونے کا موقع مل جائے۔وقت انتہائی نازک تھا لیکن ہمارے آقا و مولی علی نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی نصرت و حفاظت پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے ایسا جرات مندانہ اقدام فرمایا جو ساری تاریخ میں عدیم النظیر ہے۔آپ اس وقت ایک خچر پر سوار تھے آپ نے خچر کو ایڑ لگائی اور اسی تنگ راستہ پر آگے بڑھنا شروع کیا جس کے دائیں بائیں سے مسلسل تیر برسائے جارہے تھے۔ایک طرف یہ جرات اور مردانگی اور دوسری طرف آپ کی زبان پر یہ نعرہ حق جاری تھا۔انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب (البخاری۔کتاب المغازی باب قول الله تعالى و يوم حنين اذ أعجبتكم كثر تكم۔۔) کہ لوگوسنو ! اور خوب کان کھول کر سنو کہ میں خدا کا نبی ہوں اور بخدا میں اس دعوی میں جھوٹا نہیں۔میں تو کل اور خدائی حفاظت کے نتیجہ میں محفوظ ہوں وگرنہ میں بھی تمہاری طرح ایک