رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 40 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 40

40 میدان مقابلہ میں اترتے ہیں اور ہر ممکن احتیاط اور تدبیر بروئے کار لاتے ہیں۔۔سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر نظر رکھے اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔ایک خیمہ بطور خاص آپ کے لیے نصب کیا گیا اور چشم فلک نے دیکھا کہ اسی خیمہ میں رسول خدا نہایت رقت کی حالت میں خدا کے حضور ہاتھ پھیلائے ہوئے دعاؤں میں مصروف ہیں۔سخت اضطراب کی کیفیت ہے، کسی گھبراہٹ کی وجہ سے نہیں کہ خدا تعالیٰ نے نصرت اور فتح کی بشارت تو پہلے سے دے رکھی تھی بلکہ عرفان الہی کے نتیجہ میں تو کل علی اللہ کے انتہائی ارفع مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے آپ کی یہ کیفیت تھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب نکتہ بیان فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں: علوس قرآن شریف میں بار بار آنحضرت ﷺ کو کا فروں پر فتح پانے کا وعدہ دیا گیا تھا مگر جب بدر کی لڑائی شروع ہوئی جو اسلام کی پہلی لڑائی تھی تو آنحضرت نے رونا اور دعا کرنا شروع کیا اور اور دعا کرتے کرتے یہ الفاظ آنحضرت کے منہ سے نکلے اللّهُمَّ اِنْ اَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَا بَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْاَرْضِ اَبَدًا یعنی اے میرے خدا! اگر آج تو نے اس جماعت کو ( جوصرف تین سو تیرہ آدمی تھے ) ہلاک کر دیا تو پھر قیامت تک کوئی تیری بندگی نہیں کرے گا۔ان الفاظ کو جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت ﷺ کے منہ سے سنا تو عرض کی یا رسول اللہ ! آپ اس قدر بے قرار کیوں ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو آپ کو پختہ وعدہ دے رکھا ہے کہ میں فتح دوں گا۔آپ نے فرمایا کہ یہ سچ ہے مگر اس کی بے نیازی پر میری نظر ہے یعنی کسی وعدہ کا پورا کرنا خدا تعالیٰ پر