رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 39 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 39

39 حضرت حذیفہ بن یمان اپنے ایک اور ساتھی ابو جبل کے ساتھ مکہ سے سید ھے اس جگہ پہنچ گئے اور بتایا کہ ہم آرہے تھے کہ راستہ میں کفار نے ہمیں پکڑ کر روک لیا کہ کہیں ہم آپ کے لشکر میں نہ شامل ہو جائیں۔ہم نے انہیں کہا کہ ہم تو مدینہ جارہے ہیں۔اس پر انہوں نے ہم سے یہ عہد لیکر ہمیں آنے کی اجازت دی ہے کہ کفار کے خلاف لڑائی میں ہم شامل نہیں ہوں گے۔کفار نے یہ عہد زبر دستی ان صحابہ سے لیا تھا اور حالتِ جنگ میں اس کا ایفاء ضروری نہ تھا اور وقت بھی ایسا تھا کہ ایک ایک فرد بہت مفید ہوسکتا تھا۔ان سب الله باتوں کے باوجود جب یہ بات رسول خدا ﷺ کو پہنچی تو آپ نے عہد کی پاسداری کرتے ہوئے عظیم الشان تو کل سے فرمایا : اِنْصَرِفَا - نَفِى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ وَ نَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ - (صحيح مسلم كتاب الجهاد باب الوفاء بالعهد) یعنی تم جاؤ اور اپنے عہد کو پورا کرو۔ہم بھی اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں جو ہم نے ان سے کیا ہے اور ہم ان کے خلاف اللہ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔میدان جنگ میں عہدوں کی پابندی کرنے والا اور انتہائی خطرناک حالت میں بھی تو کل علی اللہ کا علم اس شان سے بلند کرنے والا محمد عربی ﷺ کے سوا اور کون ہے؟ صلى الله ساری دنیا کی تاریخ میں ایسی شاندار مثال ڈھونڈے سے نہیں مل سکتی ! اسی غزوہ بدر کے حالات پر نظر کرنے سے ایک عجیب نظارہ ہمارے سامنے آتا ہے۔انتہائی نامساعد حالات میں بھر پور عزم و یقین اور توکل علی اللہ کے ساتھ رسول مقبول