رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 63
63 کمال تو کل علی اللہ سے، پورے یقین اور تحدی کے ساتھ اسی وقت اس کا اعلان بھی کر دیا کہ یہ خدا کی بتائی ہوئی بات ہے جو اپنے وقت پر لازماً پوری ہوکر رہے گی۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ قریباً سترہ سال بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں یہ بشارت لفظاً لفظاً پوری ہو کر رہی۔! آٹھ دن کا یہ سفر ہجرت بظاہر ایک واقعہ دکھائی دیتا ہے لیکن درحقیت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے توکل علی اللہ کے بے شمار ایمان افروز جلووں پر مشتمل ہے۔حق یہ ہے کہ آپ کی ساری زندگی اور آپ کا ہر قول وفعل توکل علی اللہ کے خمیر سے گندھا ہوا تھا! اختتامیه حضرات! آج دنیا کا ہر اسود و احمر امن وسکون اور سلامتی کا متلاشی ہے۔ہر جگہ یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ یہ مقصد کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔بظاہر اس بہت مشکل سوال کا آسان جواب یہ ہے کہ اپنے معاملات کلیہ خدا تعالیٰ کے سپر د کر دینے سے اور تو کل علی اللہ کے مفہوم کو حقیقی معنوں میں اختیار کرنے سے سب کچھ نصیب ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب فرمایا ہے: یا درکھو کہ مصیبت کے زخم کے لئے کوئی مرہم ایسا تسکین دہ اور آرام بخش نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا ہے“ ( ملفوظات جلد ۸ صفحه (۴۵) ہماری خوش قسمتی اور سعادت ہے کہ ہم اسی ہادی کامل کے پیروکار ہیں جس کو خدا تعالیٰ نے ہر خلق میں اسوہ حسنہ قرار دیا اور جس نے مکارم اخلاق کی ہر چوٹی کو سر کیا۔وہ ہمارا