رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 62 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 62

62 سراقہ ! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تیرے ہاتھوں میں کسری کے کنگن ہوں گے؟ (اسد الغابة ذكر سراقة بحوالہ سیرۃ خاتم النبین صفحہ ۲۴۲) یہ ایک ایسی بات تھی کہ اُن حالات میں سوچی بھی نہ جاسکتی تھی۔ایسی ناقابل یقین کہ سراقہ جو اگر چہ مال و دولت کا متمنی تھا اور اسی دولت کے لالچ میں آپ کے تعاقب میں نکلا تھا لیکن جب سونے کے کنگنوں کا وعدہ دیا گیا تو یہ بات اس کے لئے بھی نا قابل یقین تھی۔وہ حیرت کی تصویر بن گیا اور اس نے بڑے تعجب سے پوچھا: آپ نے فرمایا: کسری بن ہرمز شہنشاہ ایران؟“ ” ہاں۔اسی بادشاہ کے سونے کے کنگن ایک دن تیرے ہاتھوں میں ہوں گئے یہ سن کر سراقہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور وہ حیرت میں گم ہو گیا۔کہاں عرب کے صحرا کا ایک بدو انسان اور کہاں شہنشاہ ایران کے طلائی کنگن ! کیا واقعی ایک روز ایسا ہوگا؟ سراقہ کو کیا معلوم تھا کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے اور ساری دنیا کو یہ نظارہ دکھانا چاہتی ہے کہ جو شخص آج اللہ کے محبوب بندے محمد مصطفیٰ لے کے خون کا پیاسا ہے اور دنیاوی دولت کے لالچ میں اس کے تعاقب میں بھاگا چلا آیا ہے یہی سراقہ ایک دن اپنا سرای حبیب خدا ﷺ کے پاؤں پر رکھنا اپنا فخر سمجھے گا۔وہ جو دنیا کی دولت کے لالچ میں آیا ہے ، خدا اسے دین کی دولت سے مالا مال کرے گا اور بطور نشان دنیاوی دولت کی علامت کے طور پر وقت کے مشہور بادشاہ کے سونے کے کنگن اس کو عطا ہوں گے۔یہ نظارہ خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو کشفاً دکھایا اور آپ نے