رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 61
61 اس موقعہ پر آپ کے استغناء اور توکل علی اللہ کی ایک اور شان ظاہر ہوئی۔سراقہ اس وقت آپ کا ممنون احسان تھا۔آپ چاہتے تو اس موقعہ سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔آپ جو کہتے وہ کرنے کو تیار ہو جاتا لیکن آپ کے تو کل کا کمال دیکھئے کہ آپ نے سراقہ سے کوئی فائدہ طلب نہیں کیا۔نہ اس کو کوئی سزا دی بلکہ آپ نے تو نہ صرف اسے معاف کیا بلکہ امن کی ضمانت بھی لکھ کر دی تاکہ بعد میں کبھی کوئی مسلمان اس سے انتقام لینے کا سوچ بھی نہ سکے۔آپ نے اسے کوئی جھوٹی بات کہنے اور پھیلانے کو بھی نہ کہا۔کہا تو صرف یہ کہا کہ بس ہمارے بارہ میں کسی سے ذکر نہ کرنا۔روایت میں آتا ہے کہ سراقہ نے واپسی سے قبل اپنے زادِ راہ میں سے کچھ حصہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا لیکن آپ نے ایک مشرک کی طرف سے یہ معمولی امداد بھی قبول نہ فرمائی۔حالت سفر میں انسان محتاج اور ضرورت مند ہوتا ہے اور بالعموم ہر امداد بخوشی قبول کر لی جاتی ہے۔لیکن رسول پاک ﷺ نے اللہ تعالیٰ پر توکل اور اپنی طبیعت کے استغناء کی وجہ سے ایک مشرک کی طرف سے ادنی سا احسان قبول کرنا بھی پسند نہ فرمایا۔آپ کا مقام محسن انسانیت کا تھا آپ کو اللہ تعالیٰ نے اليد العليا عطا فر مایا تھا اور آپ نے اس ہاتھ کو ہمیشہ بالا رکھا۔(البخاری۔كتاب بدء الخلق باب هجرة النبى الله و اصحابه الى المدينة۔و سيرة ابن هشام و زرقانی) سراقہ امان کی تحریر وصول کرنے کے بعد جانے لگا تو رسول پاک ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر اپنے اس دشمن کو جو آپ کی جان لینے آیا تھا ایک ایسی نوید سنائی جسے سن کر وہ حیران و ششدر رہ گیا۔آپ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :