رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 54
54 ہیں تو دشمنوں پر عجیب دیوانگی طاری ہو گئی۔ہر طرف آپ کی تلاش ہونے لگی اور اعلان کیا گیا کہ جو آپ گو زندہ یا فوت شدہ حالت میں لائے گا اسے ایک سوسرخ اونٹ بطور انعام دیئے جائیں گے۔اس خطیر انعام کا سُن کر انعام کے متلاشی سارے علاقے میں پھیل گئے۔کفار مکہ نے ایک ماہر کھوجی کی خدمات حاصل کیں جو انہیں سیدھا اور پہاڑ کی چوٹی پر واقع اس غار کے دروازہ پر لے آیا جس کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے۔کھوجی کا کہنا تھا کہ آپ یا تو اس غار میں ہیں اور یا پھر آسمان پر چلے گئے ہیں۔غار کا نقشہ کچھ اس طرح ہے کہ اندر سے آپ دونوں کو باہر کھڑے ہوئے جانی دشمنوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور ان کے پاؤں بھی نظر آتے تھے۔اگر وہ ذرا بھی جھک کر غار کے اندر دیکھنے کی کوشش کرتے تو بات ختم ہو جاتی۔لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ غار کے دروازے پر مکڑی کے جالے اور کبوتری کے گھونسلے کی وجہ سے کسی دشمن نے اندر دیکھنے کا خیال تک نہ کیا اور اس امکان کو ہی رد کر دیا کہ کوئی شخص وہاں پر موجود ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر آپ کو محفوظ رکھا۔لیکن ذرا سوچئے کہ اس وقت وفا شعار اور جان نثار ابوبکر کے دل پر کیا گزر رہی تھی؟۔اپنا تو کچھ غم نہ تھا،فکر تھی تو یہ تھی کہ اگر دشمن نے دیکھ لیا تو پھر کیا بنے گا۔اضطراب اور غم کی کیفیت نا قابل بیان تھی۔دل بے قابو ہورہا تھا۔جذبات کو د با نا ممکن نہ تھا۔بے اختیار آپ کی زبان سے نکلا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔اگر دشمن نے نظر جھکا کر دیکھ لیا تو پھر ہم پکڑے جائیں گے! لاکھوں کروڑوں درود و سلام ہوں عبد کامل محمد مصطفے ﷺ پر کہ حالات کی نزاکت کے پورے احساس کے باوجود، خوف اور ڈر یا مایوسی کا گزر تک آپ کے دل