رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 47
47 ، آپ کی جرات و شجاعت اور توکل علی اللہ کا اندازہ کریں کہ آپ نے یہ اعلان فرمایا کہ دشمن کے امکانی حملہ کو ناکام بنانے کے لیئے مسلمان فوری طور پر روانگی کی تیاری کر لیں۔اور مزید یہ بھی فرمایا کہ اس غزوہ میں صرف وہ لوگ شامل ہوں گے جنہوں نے غزوہ احد میں شرکت کی ہے۔یہ بات آپ کے حوصلہ کی عظمت کے علاوہ ایک عجیب نفسیاتی نکتہ پر مبنی تھی جس نے زخم رسیدہ صحابہ کے دلوں میں غیر معمولی ولولہ پیدا کر دیا۔چنانچہ اسی روز آپ مدینہ سے روانہ ہو گئے۔لکھا ہے کہ رسول خدا ﷺ کی ایک آواز پر احد کے مجاہدین جن میں سے اکثر زخمی تھے اپنے زخم باندھ کر ایسے جوش اور عزم کے ساتھ نکلے کہ جیسے کوئی فاتح لشکر دشمن کے تعاقب میں نکلتا ہے۔آٹھ میل کا سفر طے کر کے اسلامی لشکر حمراء الاسد کے میدان میں خیمہ زن ہو گیا۔آپ کا یہ اقدام ایسا جرات مندانہ اور غیر معمولی تھا کہ اس نے دشمن کو نفسیاتی طور پر احساس کمتری میں مبتلا کر دیا اور جو نہی کفار کو یہ معلوم ہوا کہ جن مسلمانوں کو ہم زخمی ، کمزور اور شکست خوردہ سمجھتے ہیں وہ تو سروں پر کفن باندھ کر میدان میں اتر آئے ہیں، وہ اس بات سے اتنے مرعوب اور خوف زدہ ہوئے کہ میدان مقابلہ میں اترنے کی ہمت بھی نہ کر سکے اور مکہ کی سمت روانہ ہو گئے۔یہ عظیم الشان واقعہ رسول پاک ﷺ کی جرات ، بصیرت اور توکل پر شاہد ناطق ہے۔(سيرة ابن هشام الجزء الثالث غزوه احد ذكر خروج الرسول في اثر العدو) رسول خدا ﷺ کی زندگی میں غیر معمولی تو کل اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ کے واقعات اس طرح بھرے ہوئے ہیں جس طرح آسمان ستاروں سے بھرا ہوتا ہے۔بعض واقعات