رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 30
30 50 وہ یہ ارادہ کر ہی رہے تھے تو کیا دیکھا کہ سامنے سے حبیب خدا ﷺ گھوڑے پر سوار چلے آرہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ فکر نہ کرو کوئی خطرہ کی بات نہیں۔میں سب جائزہ لے آیا ہوں۔(البخارى كتاب الجهاد باب السرعة والركض في الفزع) آنحضرت ﷺ کی بہادری ، جرأت اور توکل علی اللہ کا کیا ہی ارفع مقام ہے کہ آدھی رات کو خطرہ محسوس ہوتا ہے اور آپ اکیلے ہی باہر نکل جاتے ہیں اور کسی کو ساتھ بھی نہیں لیتے۔گھوڑے پر زین ڈالے بغیر ، بے خوف و خطر گھوم پھر کر حالات کا جائزہ لے کر واپس آجاتے ہیں اور ان صحابہ کو تسلی دیتے ہیں جو ابھی باہر جانے کی تجویز میں سوچ رہے ہوتے ہیں ! سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمُ کا کیسا ایمان افروز نظارہ ہے! صلى الله یہ جاننے کے لئے کہ کسی انسان کا اللہ تعالیٰ پر توکل ہے یا نہیں اور یہ کہ توکل ہے تو کس معیار کا ہے، مشکلات اور آزمائش کی گھڑیاں اس کی میزان بن جاتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب چشمہ معرفت میں لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر خاص طور پر پانچ ایسے مواقع آئے جبکہ آپ پر سخت خطرے اور امتحان کی گھڑی تھی۔اور ان پانچوں مواقع پر خاص طور پر آپ نے بے مثال استقامت، جرات اور تو کل علی اللہ کا نمونہ دکھایا۔ان مواقع کا ذکر متفرق مقامات پر کیا گیا ہے۔بطور مثال ایک واقعہ کا ذکر اس جگہ کرتا ہوں۔جب ہمارے آقا مبلغ اعظم ﷺ نے وقت کے بادشاہوں کو بذریعہ خطوط دعوتِ اسلام دی تو ان میں شہنشاہ فارس خسرو پرویز بھی شامل تھا۔کسری ایران نے آپ کا خط سن کر بڑے تکبر اور رعونت سے خطا ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔جب آپ کو بادشاہ کے اس رد عمل کا علم ہوا تو