رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 29
29 support his mission۔It sheds a strong light on the intensity of his belief in the divine origin of his calling۔(Life of Muhammad by Sir William Muir, 1923 edtition, pp۔112-113) محمد (ﷺ) کے سفر طائف میں ایک شاندار شجاعت کا رنگ پایا جاتا ہے۔اکیلا آدمی جس کی اپنی قوم نے اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور دھتکار دیا ، خدا کے نام پر کس بہادری کے ساتھ نینوا کے یونس نبی کی طرح ایک بت پرست شہر کو تو بہ کی اور اپنے مشن کی دعوت دینے کو نکل کھڑا ہوتا ہے۔یہ بات اس کے پختہ ایمان کو خوب آشکار کرنے والی ہے کہ وہ اپنے آپ کو قطعی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرتا تھا۔( لائف آف محمد از سرولیم میور مطبوعہ 1923 صفحات 112-113) ایک غیر مسلم مستشرق کا یہ بیان آپ کے تو کل علی اللہ کا منہ بولتا اعتراف ہے۔رسول پاک ﷺ کے عظیم الشان تو کل علی اللہ کے سلسلہ میں یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ مدینہ میں ایک رات یکدم شور اٹھا کہ جیسے کسی فوج نے مدینہ پر حملہ کر دیا ہو۔یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ قیصر کی فوجوں کے حملہ کا خطرہ تھا۔آدھی رات کو شور سن کر صحابہ پریشان ہو گئے اور تیاری کرنے لگے کہ باہر جا کر حقیقت حال معلوم کی جائے۔ابھی