رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 28 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 28

28 یعنی اے اللہ ! میں اپنے ضعف و ناتوانی اور کوتا ہی تدبیر کا حال تیرے سوا کس سے کہوں۔میں لوگوں میں رسوا ہو گیا ہوں۔اے سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والے! تو غریبوں اور کمزوروں کا خدا ہے اور تو میرا بھی خدا ہے۔تو مجھے کس کے سپر د کرے گا؟ کیا ایسے دشمن کے حوالے کرے گا جو مجھے تباہ کر دے یا کسی ایسے قریبی کے سپر د جسے تو میرے معاملہ میں سب اختیار دے دے؟ خیر ! اگر تو مجھ سے ناراض نہیں تو پھر مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں مگر ہاں تیری وسیع تر عافیت کا پھر بھی میں طلبگار ہوں۔میں تیرے عزت والے چہرے کے نور کی پناہ مانگتا ہوں کہ جس سے زمین و آسمان روشن ہیں اور جس نے اندھیروں کو منور کر دیا ہے اور دنیا اور آخرت کے معاملے جس کے ساتھ درست ہوتے ہیں کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہویا تیری ناراضگی کا موجب ٹھہروں۔تیری مرضی ہے ، تو جو چاہے کرے کہ سب قوت و طاقت تجھے ہی حاصل ہے۔مشہور و معروف مصنف سرولیم میور نے اپنی کتاب ” لائف آف محمد میں اس واقعہ کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھا ہے : There is something lofty and heroic in this Journey of Muhammad to At-Ta'if; a solitary man, despised and rejected by his own people, going boldly forth in the name like Jonah to Nineveh, and of God, summoning an idolatrous city to repent and