رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 27
27 و نشان مٹا دوں لیکن آپ نے فرمایا کہ نہیں۔میں تو ان کے لئے ہدایت اور رحمت کا پیغام لیکر آیا ہوں اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں میں ایسے اشخاص پیدا کرے گا جو خدائے واحد کے پرستار بنیں گے۔حضرت زید بن حارثہؓ اس سفر میں آپ کے ساتھ تھے۔روایت میں آتا ہے کہ جب آپ چند روز آرام کے بعد مکہ کے لئے روانہ ہونے لگے تو حضرت زید نے عرض کیا : حضور ! آپ پھر وہاں تشریف لے جا رہے ہیں حالانکہ قریش نے آپ سے اچھا سلوک نہیں کیا۔آپ نے کمال تو کل اور یقین سے فرمایا : ,, زید ! تم دیکھو گے کہ ایک دن اللہ اپنے دین کی مدد فرمائے گا اور اپنے نبی کو غلبہ نصیب کرے گا اور مشکلات کی یہ گھڑیاں ختم ہو جائیں گی“۔اس وقت آپ کی حالت بہت ہی کسمپرسی کی تھی۔دو بستیوں کے درمیان بے یار و مددگار پڑے تھے لیکن اس حالت میں بھی حصول مدد کیلئے آپ کی نگاہ اٹھی تو اپنے قا در و توا نا خدا کی طرف اٹھی اور آپ نے ایک درد بھری دعا کی جس میں اپنی بے بسی کے حوالہ سے خالق کائنات سے مدد کی التجا کی۔بہتے آنسوؤں کے ساتھ آپ نے یوں عرض کیا: اللَّهُمَّ اِلَيْكَ اَشْكُو ضُعْفَ قُوَّتِى وَ قِلَّةَ حِيْلَتِي وَ هَوَانِي عَلَى النَّاسِ - اللَّهُمَّ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ أَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَ أَنْتَ رَبِي۔۔الخ 1 (سيرة ابن هشام ـ ـ الجزء الثانی صفحه۔۱۶ ذكر سعى الرسول الى الطائف)