رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 18 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 18

18 توحید کی منادی کرنے سے کیا کیا بلا میرے سر پر آوے گی۔اور مشرکوں کے ہاتھ سے کیا کچھ دکھ اور درد اٹھانا ہوگا۔بلکہ تمام شد توں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کا حکم بجالائے۔اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعات خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کر کے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کر نیوالا ایک بھی ثابت نہیں۔“ ( براہین احمدیہ جلد اول۔روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۱۱۱۔۱۱۲) اسی موضوع پر آپ مزید فرماتے ہیں : دو وہ مصیبتوں کا زمانہ جو ہمارے نبی ﷺ پر تیرہ برس تک مکہ معظمہ میں شامل حال رہا۔اس زمانہ کی سوانح پڑھنے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے وہ اخلاق جو مصیبتوں کے وقت کامل راستباز کو دکھلانے چاہئیں یعنی خدا پر توکل رکھنا اور جزع فزع سے کنارا کرنا اور اپنے کام میں سُست نہ ہونا اور کسی کے رُعب سے نہ ڈرنا ایسے طور پر دکھلا دیئے جو کفار ایسی استقامت کو دیکھ کر ایمان لائے اور شہادت دی کہ جب تک کسی کا پورا بھروسہ خدا پر نہ ہو تو اس استقامت اور اس طور سے دکھوں کی برداشت نہیں کر سکتا۔“