رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 16
16 تو کہہ دے وہ میرا رب ہے کوئی معبود اس کے سوا نہیں۔اُسی پر میں تو کل کرتا ہوں اور اسی کی طرف میرا عاجزانہ جھکنا ہے۔فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ﴾ (التوبة ٩:١٢٩) پس اگر وہ پیٹھ پھیر لیں تو کہہ دے میرے لئے اللہ کافی ہے۔اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔اسی پر میں تو کل کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا رب رب ہے۔ذَلِكُمُ اللهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنَيْبُ ﴾ (الشورى ٣٢:١١) یہ ہے اللہ جو میرا رب ہے۔اسی پر میں تو کل کرتا ہوں اور اسی کی طرف میں جھکتا ہوں۔بائیل میں بھی رسول پاک ﷺ کی اعلیٰ صفات کا ذکر ملتا ہے۔ان صفات میں تو کل کی صفت بھی شامل ہے۔حضرت عطا بن یسار ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے ملا۔میں نے کہا مجھے حضور ﷺ کی اس صفت کے متعلق بتا ئیں جو تورات میں مذکور ہے۔انہوں نے فرمایا۔اللہ کی قسم ! آپ کو تورات میں بعض ایسی صفات سے موصوف کیا گیا ہے جن سے قرآن میں بھی آپ کو موصوف کیا گیا ہے۔پھر قرآنی آیت پڑھی کہ يَأَيُّها النَّبِيُّ إِنَّا أَرْ سَلْنكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴾ (الاحزاب : ۴۶) کہ اے رسول ! یقیناً ہم نے تجھے شاہد اور مبشر اور ڈرانے والا بنا کر اور امتیون کے لئے محافظ بنا کر بھیجا ہے۔تو میرا بندہ اور رسول ہے۔سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّل میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے۔(بخارى كتاب البيوع باب كراهية الصخب في السوق)