رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 15
15 آئندہ بھی وہی کارساز ہے۔۔۔۔۔۔پس آپ اسی پر ہمیشہ کی طرح تو کل کرتے رہیں۔یہ تسلی خدا تعالیٰ نے اس لئے نہیں دی تھی کہ خدانخواستہ آپ خوفزدہ تھے یا تو کل میں کوئی کمی آگئی تھی۔بلکہ یہ صحابہ کے حوصلے بڑھانے کے لئے تھا کہ کسی کمزور دل میں بھی کبھی یہ خیال نہ آئے کہ ہم کمزور ہیں اور اتنی طاقتوں کے سامنے ہم کسی طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔اور پھر یہ بھی کہ دشمن پر بھی اظہار ہو جائے کہ ہم تمہارے سامنے جھکنے والے نہیں ، ہم ہمیشہ کی طرح اس خدائے واحد پر ہی تو کل کرتے ہیں اور اس یقین سے پڑ ہیں کہ وہ ہمیشہ کی طرح ہمارا مددگار ہو گا ، ہماری مددفرماتا رہے گا۔اور دشمن ہمیشہ کی طرح ناکام و نامراد ہوگا“ ( خطبه جمعه فرموده ۸ اپریل ۲۰۰۵) علاوہ ازیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رسول پاک ﷺ کے متوکل ہونے کی گواہی بار بار دی ہے اور ظاہر بات ہے کہ علام الغیوب خدا کی گواہی سے بڑھ کر کس کی گواہی سچی اور قطعی ہوسکتی ہے۔خود رسول پاک ﷺ تو اپنے طبعی حجاب اور غایت درجہ منکسر المزاجی کہ وجہ سے اپنی صفات حسنہ کا کبھی بھی برملا اظہار پسند نہ فرماتے تھے لیکن وہ خدا جو آپ کی ہر حرکت و سکون پر نظر رکھنے والا اور آپ کی دلی حقیقی کیفیات سے خوب واقف تھا اس خدائے علیم وخبیر نے ارشاد فرمایا کہ اے میرے حبیب! تو میرے اذن اور میری اجازت سے اس بات کا اعلان کر دے کہ تو تو کل علی اللہ کے مقام محمود پر فائز ہے۔قرآن مجید کی درج ذیل آیات اس پر گواہ ہیں : قُلْ هُوَرَ بِّي لَآ ا الهَ اِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَ كُلْتُ وَا لَيْهِ مَتَابِ﴾ (الرعد ١٣:٣١)