رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 14
14 قرآن مجید اور بائیل کی گواہی قرآن مجید میں تو کل کا مضمون بڑی کثرت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔تو کل علی اللہ کو مومنوں کی ایک صفت قرار دیا گیا ہے۔انبیاء کرام کے حوالہ سے بڑی کثرت سے یہ بات مذکور ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کا نمونہ دکھایا۔انبیاء کے ماننے والوں کے تو کل کا بھی ذکر ملتا ہے۔سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ توکل کے ضمن میں ہمارے پیارے ہادی کامل حضرت محمد مصطفے ﷺ کا ذکر مختلف انداز میں ملتا ہے۔تو کل علی اللہ کے سلسلہ میں آپ کے عملی نمونوں کو قرآن کریم نے ہمیشہ ہمیش کے لئے مشعل راہ کے طور پر محفوظ کر دیا ہے۔قرآن مجید کی گیارہ آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور پیارے رسول ﷺ کو تو کل کی تاکید فرمائی ہے۔گیارہ کی تعداد میں کیا حکمت ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔لیکن یہ مضمون بہت واضح ہے کہ آپ کو تو کل اختیار کرنے کی اس تاکید میں دراصل آپ کی ساری کی ساری امت قیامت تک کے لئے مخاطب ہے۔اس امر کی لطیف حکمتوں کا ذکر حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کے الفاظ میں عرض کرتا ہوں۔فرمایا: یہ قرآنی فرمان اصل میں تو آنحضرت ﷺ کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تسلی کا پیغام تھا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو بھی بے فکر رہ اور اپنے صحابہ کو بھی تسلی کروادے کہ جیسے بھی حالات ہوں۔۔۔۔۔۔یہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔پہلے بھی اللہ تعالیٰ کا رساز رہا ہے، تجھے ہر مشکل اور ہر مصیبت سے نکالتا رہا ہے اور