رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 13
13 ایک روایت یوں بھی آتی ہے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھوں اور پھر تو کل کروں یا اُسے آزا د ر ہنے دوں اور خدا پر توکل کروں۔آپ نے فرمایا: اِعْقِلُهَا وَ تَوَكَّلْ کہ پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھو اور پھر تو کل کرو۔(ترمذی جلد ۲ باب صفة القيامة) یا درکھنا چاہئے کہ گھٹنا باندھ کر معاملہ کو خدا کے سپر د کر دینا درحقیقت تو کل کی پہلی منزل ہے۔یہ ایک عام انسان کا مقام ہے۔تو کل کا مضمون بہت گہرا ہے اور اسکی راہیں بہت باریک ہیں۔اللہ تعالیٰ کی ذات اور قدرتوں پر کامل ایمان رکھنے والے مومن کے توکل کا معیار اس سے بہت بلند ہوتا ہے۔اسباب موجود ہوں تو وہ حکم خداوندی کے مطابق ان کو ضرور استعمال کرتا ہے لیکن اس بات پر بھی کامل یقین رکھتا ہے کہ ایک قادر وتوا نا خدا ہے جو کل اسباب کا خالق و مالک ہے۔وہ آستانہ الوہیت پر جھکتا ہے اور رحمت باری تعالیٰ کو اس طرح حرکت دیتا ہے کہ خدا جو اسباب کا پابند اور محتاج نہیں ، اپنی قادرانہ قدرت کی تجلی سے معجزانہ طور پر غیر ممکن باتوں کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔یہ تو کل کا وہ مقام ہے جو مومنوں کی زندگیوں میں اور خاص طور پر انبیاء کرام کی زندگیوں میں جلوہ گر نظر آتا ہے۔ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے ﷺ کی حیات طیبہ میں یہ حقیقی اور سچا تو کل علی اللہ اپنے نقطۂ معراج پر نظر آتا ہے۔اس اعلیٰ مقام تو کل کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : اگر کوئی طاقت رکھے تو تو کل کا مقام ہر ایک مقام سے بڑھ کر ہے“ کشتی نوح صفحه ۱۳ ، روحانی خزائن جلد ۱۹) )