رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 12 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 12

12 خدا تعالیٰ پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے بلکہ یہ معنی ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا تعالیٰ پر چھوڑے۔اس کا نام تو کل ہے۔اگر تد بیر نہیں کرتا اور صرف تو کل کرتا ہے تو اس کا تو کل پھوکا ہوگا اور نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ پر توکل نہیں ہے تو وہ تدبیر بھی پھوکی ہو گی تو کل کی عملی تشریح ( ملفوظات ، جلد ۶ صفحه ۳۳۴) اس امر کی ایک خوبصورت اور عملی تشریح ہمیں ہادی کامل حضرت محمد مصطفے ﷺ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے ایک واقعہ ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے : ایک شخص اونٹ پر سوار تھا۔آنحضرت ﷺ کو اس نے دیکھا۔تعظیم کے لیے نیچے اترا اور ارادہ کیا کہ تو کل کرے اور تدبیر نہ کرے۔چنانچہ اس نے اونٹ کا گھٹنا نہ باندھا۔جب رسول اللہ ﷺ سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے۔واپس آکر آنحضرت ﷺ سے شکایت کی کہ میں نے تو تو کل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا۔آپ نے فرمایا کہ تو نے غلطی کی۔پہلے اونٹ کا گھٹا باندھتا اور پھر تو کل کرتا تو ٹھیک ہوتا۔“ 66 ( ملفوظات ، جلد ۶ صفحه ۳۳۴)