رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 11 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 11

11 انداز کر دے۔ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے ﷺ نے ہمیں تو کل کا یہی مفہوم سمجھایا ہے کہ عند الضرورت خدا دا د طاقت و صلاحیت کو انسانی وسعت کی آخری حد تک بروئے کار لایا جائے۔اس کے باوجود انسانی کوشش میں جو کمی یا نقص رہ جائے اسے خدا تعالیٰ کے سپر د کر دیا جائے اور یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت بالغہ سے خود ا سے پورا کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا خوب فرمایا ہے : تو کل ایک طرف سے تو ڑ اور ایک طرف جوڑ کا نام ہے“ ( ملفوظات ، جلد ۵ صفحه ۱۹۲) تو کل کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں فرمائی ہے : تو کل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی امر کے حاصل کرنے کے واسطے مقرر کئے ہوئے ہیں، ان کو حتی المقدور جمع کرو اور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ (اے) خدا ! تو ہی اس کا انجام بخیر کر۔صد ہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو اُن اسباب کو بھی بر با دو تہ و بالا کر سکتے ہیں، اُن کی دست برد سے بچا کر ہمیں کچی کامیابی اور منزل مقصود پر پہنچا “ الحکم جلد ۷ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰) تدبیر اور توکل کے تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: انسان کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے اور انسان کے امکان اور طاقت میں ہو خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو پھر اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں ہو سکتی۔