رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 60 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 60

60 میں آپ اللہ کی حفاظت میں رہے۔اسکے بعد آپ نے مدنی زندگی میں ہر غزوہ میں بھر پور شرکت کی اور خدا تعالیٰ نے آپ کو دشمنوں کے ہاتھوں موت سے محفوظ رکھا۔بعد ازاں خلافت اولی کے دور میں آپ کی حفاظت فرمائی بلکہ چاروں خلفائے راشدین میں سے صرف ایک آپ ہیں جن پر دشمن حملہ کر کے آپ کے سلسلہ حیات کو منقطع نہ کر سکا۔اور پھر طبعی وفات کے بعد اس وعدہ معیت کا فیض اس شکل میں آپ کو عطا ہوا کہ آپ کو رسول پاک ﷺ کے پہلو میں قریب ترین جگہ پر آخری آرام گاہ نصیب ہوئی اور قرب کا یہ شرف ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ کے نصیب میں لکھ دیا گیا۔سراقہ اس تعاقب میں گھوڑے سے بار بار گرا اور سنبھلا اور بالآخر اپنا ارادہ ترک کر کے صلح کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے معافی کا خواستگار ہوا۔اس کا گھوڑا ریت میں دھنس گیا تھا جو آپ کی دعا کی برکت سے باہر نکلا۔سراقہ نے جو کچھ دیکھا اور مشاہدہ کیا اسکی بناء پر اسے یقین کامل ہو گیا کہ بالآخر آپ یقیناً غالب آئیں گے۔اس خیال سے اس نے کمال دور اندیشی سے درخواست کی کہ مجھے امن کی تحریر عطا فرمائیں۔چنانچہ چمڑے کے ایک ٹکڑے پر یہ تحریر لکھ کر اسے دے دی گئی۔یہاں ایک لمحہ کے لئے رک کر ذرا یہ سوچئے کہ اس واقعہ میں بھی تو کل علی اللہ کی کیسی ارفع شان نظر آتی ہے۔آپ کتنی کسمپرسی اور خوف کی حالت میں ، جان بچاتے ہوئے ، حالت سفر میں ہیں۔ہر طرف دشمن آپ کی تاک میں ہے اور ہرلمحہ جان کا خطرہ ہے لیکن یقین اور وثوق سے آپ کا دل پر ہے کہ بالآخر اللہ تعالیٰ آپ کو یہ مقام عطا کرے گا کہ آپ ہی لوگوں کو امن کی ضمانت دیں گے اور بالآخر یہی تقدیر فتح مکہ کے روز بڑی شان کے ساتھ جلوہ گر ہوئی !