رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 50 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 50

50 جب ان دشمنوں سے بدلہ لینے کا وقت آیا تو آپ نے اپنی ذات کو بھول کر اس ذات کو یا درکھا جس کے وسیلہ سے یہ فتح نصیب ہوئی۔آپ کے دل میں ہرگز یہ خیال نہیں آیا کہ اگر میں نے دشمنوں کو معاف کر دیا تو ایک بار پھر مجھے ظلم وستم کا نشانہ بنالیں گے بلکہ فتح عطا کرنے والی قا در وتوانا ذات پر کامل تو کل کرتے ہوئے آپ نے ان سارے دشمنوں کو یک قلم معاف فرما دیا۔کوئی ایک دشمن بھی ایسا نہ تھا جس کو آپ نے قتل کی سزا دی ہو۔جن دشمنوں کے حق میں آپ نے اس سے قبل قتل کی ہدایت بھی فرمائی ہوئی تھی ان سب دشمنانِ اسلام کو بھی اس عظیم فتح کے روز معاف کر دیا گیا۔عفو عام اور توکل علی اللہ کی یہ مثال ایسی ہے کہ اس نے ہمیشہ کے لئے انسانیت کا سر بلند کر دیا ہے! لیا ظلم کا عفو ނ انتقام عليـ واقعہ ہجرت میں تو کل علی اللہ لوة عليك السلام ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زندگی میں مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا واقعہ ایک غیر معمولی عظمت اور اہمیت کا حامل ہے۔اس واقعہ سے اسلامی سن ہجری کا آغاز ہوتا ہے۔بظاہر ایک واقعہ ہے لیکن اس میں آپ کے تو کل علی اللہ کے بے شمار پہلو جلوہ گر ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ اس عظیم تاریخی واقعہ کا قدرے تفصیل سے ذکر کیا جائے اور اس میں آپ کے تو کل علی اللہ کے تابندہ گوہر تلاش کئے جائیں۔تیرہ سالہ ملکی دور کا ایک ایک دن پہاڑ کی مانند تھا۔کفار مکہ نے ظالموں کی حد کر دی۔فلم و