رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 38 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 38

38 بات تھی لیکن آپ اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین رکھتے ہوئے اپنے جانثاروں کو ساتھ لیکر دشمن کے مقابلہ کے لیئے نکل کھڑے ہوئے۔☆ ابھی روانہ ہوئے ہی تھے کہ ایک مشرک جو اپنی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے بہت شہرت رکھتا تھا آپ سے ملا اور لشکر میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔عددی قلت کے وقت ایک تجربہ کار اور جنگ جو بہادر کامل جانا ایک غیر معمولی بات تھی الله اور صحابہ بھی اس کے آنے سے خوش ہو رہے تھے لیکن رسول پاک ﷺ کی عجیب شانِ تو کل تھی کہ آپ نے اس شخص کی پیشکش مستر د کر دی اور فرمایا کہ میں اسلام کی سربلندی کے اس معرکہ میں کسی مشرک سے مدد لینے کو تیار نہیں ہوں خواہ وہ کتنا ہی نامور اور تجربہ کار کیوں نہ ہو۔تھوڑی دیر بعد وہ شخص پھر آیا اور شمولیت کی اجازت چاہی لیکن آپ نے پھر انکار کر دیا۔وہ تیسری بار آیا اور اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ ہاں اب ٹھیک ہے۔اگر تم برضا و رغبت مسلمان ہوتے ہو تو پھر ہمارے ساتھ شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔مسلم كتاب الجهادو السير ـ باب كراهة الاستعانة في الغزو بكافر) یہ واقعہ آپ کے کردار کی عظمت اور تو کل علی اللہ کی ایک شاندار مثال ہے۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ اس وقت ہوا جب کہ میدان بدر میں صف بندی کی جارہی تھی۔یہ وہ موقعہ تھا کہ ایک ایک شخص کا وجود بسا غنیمت تھا۔عین اس وقت