رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 36 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 36

آپ کوسب انبیاء پر فضیلت ہے۔“ ایک عظیم نکتۂ معرفت 36 انوار العلوم جلد اوّل صفحہ 502- 503) تو کل علی اللہ کے باب میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفے ﷺ نے یہ عظیم نکتۂ معرفت بھی اپنی امت کو سکھایا کہ ہر حال میں اپنے خدا کو یا درکھو اور ہر ضرورت کے وقت خواہ وہ ہمالہ جیسی بڑی ہو یا جوتی کے تسمہ جیسی چھوٹی ، ہمیشہ تمہاری نظر اسی خدا کی طرف اٹھے جو ہر چھوٹی بڑی ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔اور پھر یہی نہیں کہ ایک دنیا دار مطلبی شخص کی طرح صرف ضرورت پڑنے پر تمہیں خدا یاد آ جائے اور باقی وقتوں میں تم اپنے زور باز و یا لیاقت پر اترانے لگ جاؤ۔آپ نے یہ نکتہ سمجھایا کہ حقیقی مومن وہ ہے جو ہر وقت اپنے آپ کو نعمائے الہی کا محتاج سمجھے اور اپنا کشکول لئے ہر وقت اس کے در پر بیٹھا رہے۔ہر قدم پر آپ نے دعا سکھائی اور ہر اہم موقعہ کے لیئے ایک دعا تعلیم فرمائی۔آپ کی سکھائی ہوئی یہ ساری دعائیں آپ کے تو کل علی اللہ کا زندہ ثبوت ہیں۔آپ نے نصیحت فرمائی کہ صحت کی حالت میں بھی خدا کو یا درکھو کہ بیماری میں وہ تمہارا ساتھی اور شافی ہوگا۔فراخی کے وقت میں بھی اپنے مولیٰ کو یا درکھو کہ مشکل کے وقت وہ تمہارا معین و مددگار اور مشکل کشا ثابت ہو گا۔حق یہ ہے کہ اس نصیحت پر سب سے زیادہ جس وجود نے عمل کیا وہ خود آپ کا و جو د مبارک تھا۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ہر