رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 26
26 اسلام کو اس حالت میں دیکھا تو ڈرے کہ اس کی نیت ٹھیک نہیں۔لیکن رسول خدا علی کے تو کل علی اللہ اور جرات کا عالم دیکھیئے کہ آپ نے ایک لمحہ توقف کیئے بغیر صحابہ سے فرمایا کہ ڈرو نہیں اور دروازہ کھول دو۔عمر تلوار پکڑے اندر داخل ہوئے۔آپ آگے بڑھے اور فرمایا عمر ! کس ارادہ سے آئے ہو؟ عمرؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مسلمان ہونے آیا ہوں۔آپ نے بلند آواز سے اللہ اکبر فر مایا اور صحابہ کے پر جوش نعروں سے مکہ کی ساری وادی گونج اٹھی ! ☆ (سيرة ابن هشام - الجزء الاول ذكر سبب اسلام عمر ) سفر طائف کا واقعہ بھی ایک دلگد از واقعہ ہے جو ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفے ﷺ کے عزم وحوصلہ، استقامت اور توکل علی اللہ پر غیر معمولی روشنی ڈالتا ہے۔تبلیغ کے بے پناہ جذبہ سے سرشار آپ نے طائف کی بستی کا سفر اختیار کیا۔اس امید پر کہ شاید اہل طائف کو خدا تعالیٰ قبول حق کی توفیق عطا فرما دے لیکن یہ لوگ تو اہل مکہ سے بھی سنگدل نکلے۔رؤسائے طائف نے نہ صرف دعوتِ اسلام کو رد کر دیا بلکہ شہر کے اوباشوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ان نوجوانوں نے کتے ساتھ لیے، جھولیوں میں پتھر بھر لیئے اور نہایت سفا کی سے سید المعصومین حضرت محمد عربی ﷺ پر اسقدر پتھراؤ کیا کہ آپ کا جسم لہولہان ہو گیا اور جوتیاں مقدس خون سے بھر گئیں۔اس حالت میں ان ظالموں نے خدا کے فرستادہ کو بستی سے باہر دھکیل دیا۔آپ نے ایک قریبی نخلستان میں پناہ لی۔پہاڑوں کے فرشتے نے عرض کیا کہ اجازت ہو تو پہاڑوں کو الٹا کر اس بستی کا نام الله