رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ

by Other Authors

Page 21 of 65

رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا توکل علی اللہ — Page 21

21 تو کل علی اللہ کا شجرہ طیبہ تو کل علی اللہ کو اگر ایک درخت سے تشبیہ دی جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول مقبول ﷺ کی زندگی میں یہ شجرہ طیبہ اپنے پورے عروج پر تھا۔یہ ایک ایسا سدا بہار درخت تھا جس کو ہر زمانہ میں شیر میں ثمر لگتے رہے۔آپ کے تو کل علی اللہ کو مکی دور میں صبر واستقامت کا پھل لگا۔ظلم وستم کی ہر یلغار کے مقابل پر آپ ایک مضبوط چٹان کی طرح ثابت قدم رہے۔اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت پر کامل تو کل اور بھروسہ کی بدولت آپ سارا وقت کوه استقامت بن کر کھڑے رہے۔مدنی دور آیا تو وہاں مخالفین اسلام نے آپ کو اور آپ کے مشن کو ختم کرنے کی نیت سے پے در پے حملے کئے۔اور آپ کو دفاعی جنگوں کی خاردار وادیوں میں اترنا پڑا۔اس موقعہ پر آپ کے تو کل علی اللہ کے درخت کو جرات و بہادری ، خودداری، عفوو درگزر اور عدل و انصاف کے شیریں پھل لگے۔آپ پر تنگی اور ناداری کا زمانہ بھی آیا اور مالی فراخی کا بھی ، کمزوری کا وقت بھی آیا اور اختیار و اقتدار کا وقت بھی۔آپ عددی قلت کے دور سے بھی گزرے اور تعداد کے لحاظ سے کثرت کا زمانہ بھی آپ کو دیکھنے کا موقع ملا۔آپ کی ساری زندگی اس بات پر گواہ ہے کہ اس عبد کامل نے ہر حالت عليسة عسر و یسر میں تو کل علی اللہ کا بے نظیر اور عدیم المثال نمونہ پیش فرمایا۔آپ کے تو کل علی اللہ کا شجرہ طیبہ ہر دور میں شیر میں ثمرات سے لدا ہوا دکھائی دیتا ہے۔حق یہ ہے کہ ہمارے ہادی کامل حضرت محمد عربی ﷺ کی ساری زندگی تو کل علی اللہ کے حسین نمونوں سے بھری پڑی ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین محکم