تواریخ مسجد فضل لندن — Page 82
75 ( بیت) کے افتتاح کے تقریب کی بابت کوئی اطلاع نہیں دی جاسکتی۔“ شیخ عبدالقادر صاحب: ایک طرف ادہر تو یہ ہو رہا تھا۔اب دوسری طرف دیکھئے کہ ایک نیا شخص اسٹیج پر نمودار ہوا۔پردہ کے پیچھے سے دست قدرت اس شخص کو آہستہ آہستہ دھکیل رہی تھی جس کے سر اس افتتاح کی سعادت کا سہرا بندھنا تھا۔ہفتہ کا دن اور 2 اکتوبر کی تاریخ تھی۔کہ امام کے پاس ایک خط غیر متوقع طور خان بہادر شیخ عبدالقادر صاحب سابق وزیر پنجاب اور پریزیڈنٹ پنجاب ليجسلیٹو کونسل (President Punjab Legislative Council) کا پہنچا۔کہ ”میں آج کل چند روز کے لئے لنڈن میں آیا ہوں۔اور میں چاہتا امام ہوں کہ مسجد کو دیکھوں۔“ نے اس ہوٹل میں ٹیلیفون کیا۔جہاں شیخ صاحب موصوف ٹھہرے ہوئے تھے مگر معلوم ہوا۔کہ وہ کہیں باہر تشریف لے گئے ہیں۔اس پر اس ہوٹل والے کو کہہ دیا گیا کہ جب شیخ صاحب واپس آویں۔تو ان کو کہہ دینا که امام سے ٹیلفون پر بات کریں۔جب شیخ صاحب ہوٹل میں آئے تو انہوں نے ڈیڑھ 112 بجے دن کے امام کو فون کیا۔امام نے ان کو کہا کہ جس طرح ہو۔فوراً بیت میں تشریف لائیے۔شیخ صاحب فوراً بیت میں پہنچے۔جہاں امام نے تمام روئیداد ان کو سنائی۔جس پر خان بہادر صاحب نے حسب ذیل تار اپنی طرف سے شاہ حجاز کو دیا:- ”یہ سُن کر مجھے بہت تعجب ہوا ہے کہ بعض لوگوں نے آپ کے لڑکے کے بیت کو افتتاح کرنے سے بر خلاف