تواریخ مسجد فضل لندن — Page 73
66 میں دنیا کے آگے پیش کر رہی ہے آؤ! میں بتاؤں کہ وہ کیا چیز ہے وہ برکت اور ہدایت ہے جو اس کے جزو جزو میں رچی ہوئی ہے اور اس کے ذرہ ذرہ سے نفوذ کر رہی ہے۔یہ اس لئے کہ ایسی بیت جو بچے ایمانی جوشوں اور دل کی تہ سے نکلی ہوئی دُعاؤں کے ساتھ نبیوں کے نوشتوں کے مطابق وجود میں آئے۔وہ بلاشبہ خدا کا مقدس گھر اور اس کے خاص نزول کی جگہ ہوتی ہے اور اس سے دُنیا وہ فیوض حاصل کرتی ہے جو دوسری جگہوں سے ملنے ناممکن ہیں۔افتتاح کی تیاریاں (بیت) کا تیار ہونا تھا کہ قدرتی طور پر اس کے افتتاح کی تقریب اور پھر اسے شاندار طور پر کامیاب بنانے کا خیال حضرت خلیفہ اسیح ثانی ایده اللہ بنصرہ العزیز کو پیدا ہوا۔کسی بیت کا افتتاح کوئی (دینی) رسم نہیں ہے مگر ایسی بات چونکہ مغربی قلوب پر خاص اثر رکھتی تھی۔اور تمام دنیا میں اعلان اور تن کے لئے بڑی ضرورت تھی اور پھر ایسے موقع پر جمع ہو کر برکت اور کامیابی کے لئے دعا ئیں بھی ہونی چاہیے تھیں۔اس لئے یہ قرار پایا کہ اس کا افتتاح ایک خاص اہتمام کے ساتھ ہو۔اور کسی مشہور آدمی سے کرایا جائے۔اگر چہ بعد میں منشائے الہی نے یہ ثابت کر دیا کہ خدا کا گھر اس معاملہ میں کسی کا مرہون منت نہیں ہو سکتا۔کوئی انسان خدا کے گھر کو شہرت نہیں دے سکتا بلکہ یہ افتتاح کرنے والے کی خوبی قسمت ہے کہ اسے اس سعادت سے حصہ ملے اور اس کا نام بھی چار دانگ عالم میں شہرت پائے۔افتتاح کے لئے مختلف نام حضرت خلیفہ المسیح ثانی کے حضور فروری 1926 ء سے امام بیت مولوی درد صاحب نے پیش کرنے شروع کر دیئے تھے۔21 اپریل 1926ء کو جو خط حضور کا امام (بیت) کے نام گیا اس میں