تواریخ مسجد فضل لندن — Page 18
16 تیسری رقم ایک سو پانچ (105) روپے کی صدر انجمن نے بھی حضرت خلیفہ اول کی فہمالیش پر دی۔اس روپیہ سے چودہری فتح محمد صاحب 25 جولائی 1913ء کو لنڈن پہنچ گئے اور کچھ دن وہاں قیام کر کے 11/اگست 1913ء کو دوکنگ میں پہنچے۔اور پھر سوائے ایک قلیل درمیانی وقفہ کے حضرت خلیفہ اول کی وفات تک جو مارچ 1914ء میں ہوئی وہیں قیام رکھا۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد چودہری صاحب نے حضرت خلیفہ ثانی کی بیعت کر لی اور خواجہ کمال الدین صاحب بیعت سے منحرف رہے۔اس اختلاف کی وجہ سے جس نے ایک ناگوار صورت اختیار کر لی تھی۔انہیں ووکنگ کو چھوڑ کر پھر مئی 1914ء میں لنڈن آنا پڑا اور یہاں پر انہوں نے (دینِ حق ) اور احمدیت کی تبلیغ کا انتظام اور کام کرنا شروع کیا۔غرض یہ پہلا شخص تھا جسے سلسلہ عالیہ احمدیہ کا پہلا۔۔۔( داعی الی اللہ ) بن کر انگلستان جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔سب سے پہلا پھل چودہری صاحب کی مساعی کا ایک شخص مسٹر کوریو (Mr۔Corio تھا۔جو کہ ایک جرنلسٹ ہے اور اب تک زندہ ہے اور مسلمان ہے اس کا نام بشیر کو ریو رکھا گیا۔اس کے بعد چودہری صاحب کی واپسی تک جو مارچ 1916 ء میں ہوئی۔قریباً ایک درجن انگریز اور مسلمان ہوچکے تھے۔چودہری صاحب کی تبلیغ زیادہ تر لیکچروں کے ذریعہ سے ہوئی جو انہوں نے ملک کے مختلف حصوں کی کلبوں اور سوسائٹیوں کے جلسوں میں دیے اور چودہری صاحب کی رہائش ایک کرایہ کے مکان میں رہی چودہری فتح محمد صاحب سے چارج لینے کو حضرت خلیفہ ثانی نے قاضی عبداللہ صاحب بی اے بیٹی کو انگلستان روانہ کیا۔وہ اکتوبر 1915ء میں اس ملک میں داخل ہوئے اس کے چار ماہ بعد چودہری فتح محمد صاحب سبکدوش ہو کر جنگ کی وجہ سے کیپ آف گڈ ہوپ (Cape of Good Hope) یعنی افریقہ کے