تواریخ مسجد فضل لندن — Page 17
15 آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مُردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہلِ دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں نثار زمانہ حضرت خلیفہ اول 27 مئی 1908ء کو حضور علیہ السلام کی وفات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب آپ کے خلیفہ اول ہوئے۔آپ کے زمانہ خلافت میں جو چھ سال کے قریب تھا۔خواجہ کمال الدین صاحب نے ولایت جا کر ووکنگ میں اپنا کام شروع کیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت خلیفہ اول نے اپنا منشاء ظاہر فرمایا۔کہ ہماری جماعت کے انگریزی تعلیم یافتہ طبقہ میں سے کچھ لوگ ج کیلئے انگلستان جائیں۔اس تحریک پر مولوی محمد الدین صاحب بی اے اور چودہری فتح محمد صاحب ایم اے نے اپنا نام پیش کر دیا۔مگر دقت یہ تھی کہ سفر خرچ وغیرہ کے لئے روپیہ موجود نہ تھا۔یہ دقت دیکھ کر چودہری فتح محمد صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے اس کا ذکر کیا۔جس پر آپ نے ان کو تین سو (300) روپے انجمن انصار اللہ کے فنڈ سے دینے کا وعدہ کیا۔چودہری صاحب فوراً حضرت خلیفہ اول کے پاس گئے اور حال سنایا کہ میں تیار ہوں اور کچھ روپیہ بھی مل گیا ہے۔اس پر حضرت میر ناصر نواب صاحب نوراللہ مرقدہ نے ایک سو پانچ (105) روپے اپنے پاس سے پیش کئے۔