تواریخ مسجد فضل لندن

by Other Authors

Page 171 of 187

تواریخ مسجد فضل لندن — Page 171

153 ہوتا ہے تو سلسلہ کی تباہی ہوئی ہے۔اور یہ کہنا کہ ہم نے اخلاص اور ہمدردی سے اعتراض کیا ہے یہ بھی بالکل غلط طریق ہے۔اس سے نہ کبھی اصلاح ہوئی اور نہ ہو گی۔یہ ایسی ہی بات ہے۔جیسے کوئی کسی کو جوتے مارے اور کہے میری غرض تو اس سے تمہاری عزت پیدا کرنا ہے کیا یہ کبھی ہوسکتا ہے کہ سلسلہ کے کاموں اور مرکزی کاموں کے لئے محبت و اخلاص بھی ہو اور پھر اعتراض بھی کرتے چلے جائیں۔پس بجائے اعتراضات میں طاقتیں خرچ کرنے کے خدمت دین میں اپنی طاقتیں خرچ کرو۔دوسرا ذریعہ مدد کرنے کا یہ ہے کہ اپنے دلوں میں خشیت پیدا کر کے خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ ان موجودہ تغیرات کو ہمارے لئے مفید کرے۔یہ دوطریق ہیں جن سے جماعت کے دوست مدد کر سکتے ہیں۔یاد رکھو کہ سست اور نکمے معترض جماعت اور سلسلہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ان کی غفلت کا بوجھ ان کی ہی گردن پر ہو گا یہ کبھی نہیں ہو گا کہ کام کرنے والوں کے انعامات اور اجر ان کو دیئے جائیں۔بلکہ وہی لوگ نعمتوں کے وارث ہوں گے جو سچے طور پر دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں لیکن وہ لوگ جو خود تو غفلتوں میں پڑے ہوتے ہیں اور دوسرے کام کرنے والوں پر اعتراض کرتے رہتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی درگاہ سے دھتکارے جائیں گے۔بعد اس کے کہ ان کو بلایا گیا تھا۔اور وہ مارے جائیں گے۔بعد اس کے کہ وہ زندہ کئے گئے تھے۔آخر میں میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا تقویٰ اور اخلاص عطا کرے۔اور ہر قسم کی ٹھوکروں اور ابتلاؤں سے محفوظ رکھے۔خاتمہ ودعا خود کنی و خود کنانی کار را